Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

145 - 465
 ١  وہذا عند نا فان کل عقد صدر من الفضولی ولہ مجیز انعقد موقوفاً علی الاجازة 

تشریح :  کسی آدمی نے کسی عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کرادیا، یا کسی مرد کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کرادیا] جسکو فضولی کہتے ہیں [ تو یہ نکاح نکاح کرنے والی کی اجازت پر مو قوف رہے گا ، وہ اجازت دے گی تو نکاح ہو جائے گا اور اجازت نہیں دے گی تو ایجاب اور قبول باطل ہو جائے گا ۔
وجہ : (١) نکاح کرانے والا ناکح کا نہ ولی ہے اور نہ اس نے نکاح کرانے کا حکم دیا ہے ، یہ تو اپنی جانب سے نکاح کرایا ہے ، اور نکاح ایک عقد ہے اس لئے اس کی اجازت کے بغیر اس پر اس کی ذمہ داری عائد نہیں ہو گی(٢) اس اثر میں ہے کہ بغیر اجازت کے نکاح نہیں ہو گا ۔ عن الزھری و قتادة فی رجل خطب علی رجل فأنکحوہ ثم جاء المخطوب لہ فأنکر، قال لم آمرہ بشیئ۔ دوسرے اثر میں ۔عن شبرمة قال لیس بینھما نکاح ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب الغائب یخطب علیہ فزوج ، و الغائبة تزوج ، ج سادس ، ص ١٧٥، نمبر ١٠٦٢٥، نمبر ١٠٦٢٦) اس اثر میں ہے کہ فضولی کے نکاح کر نے سے نکاح نہیں ہو گا۔(٣) اس اثر میں ہے کہ اجازت دے گا تو نکاح ہو جائے گا ۔ عن شبرمة فی رجل تزوج امراة و ھو بارض و ھی بأخری فمات فان قامت بینة انہ قد ملکھا و رضیت قبل ان یموت فلھا المیراث و الصداق۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب الغائب یخطب علیہ فزوج ، و الغائبة تزوج ، ج سادس ، ص١٧٦، نمبر ١٠٦٢٨) اس اثر میں ہے کہ اصیل نے نکاح قبول کر لیا ہو تو نکاح ہو جائے گا ، اور میراث اور مہر ملے گا ، اور قبول نہیں کیا تو نکاح رد ہو جائے گا ۔  
لغت:  نکاح کر نے والے چار قسم کے لوگ ہو تے ہیں ]١[  خود اپنا نکاح کر نے والا اس کو اصیل کہتے ہیں ]٢[ کوئی کسی کا ولی ہو وہ نکاح کرائے ، جیسے باپ اپنی بیٹی کا نکاح کرائے اس کو ولی کہتے ہیں ۔ ]٣[ کوئی دوسرے کو نکاح کرانے کا حکم دے ،مثلا زید نے خالد کو نکاح کرانے کا حکم دیا تو یہ وکیل ہوا ، اور جسکا نکاح کرا رہا ہے وہ مؤکل ہوا ۔ ]٤[ آدمی کسی کا ولی بھی نہ ہو اور اس نے اس کو نکاح کرانے کا حکم بھی نہیں دیا ہو اس لئے وکیل بھی نہ ہو اور نکاح کرائے تو اس کو فضولی کہتے ہیں ، اس لئے کہ بغیر اس کے حکم کے نکاح کرا رہا ہے ، اوپر میں اسی فضولی کا مسئلہ ہے ۔   
ترجمہ :   ١  یہ ہمارے نزدیک ہے اس لئے کہ ہر وہ عقد جو فضولی سے صادر ہوا ہو اور اس کا جواب دینے والا ہو تو اجازت پر مو قوف ہو کر نکاح منعقد ہو گا ۔
تشریح :   ہمارے نزدیک یہ ہے کہ فضولی کی جانب سے عقد صادر ہوا یعنی ایجاب کیا ہو اور مجلس ہی میں اس کو قبول کر نے والا ہو تو نکاح منعقد ہو جائے گا ، البتہ اصل ناکح کی اجازت پر مو قوف رہے گا۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فضولی عاقل بالغ آدمی ہے اس لئے وہ ایجاب کر نے کا اہل ہے اور جس کا نکاح کرا رہا ہے وہ عورت ہے اس لئے وہ نکاح کرانے کا محل ہے اس لئے نکاح منعقد ہو جائے گا ۔ مجیز : اجازت دینے والا ، قبول کر نے والا ۔ 

Flag Counter