Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

143 - 465
  ١  وقال زفر  والشافعی لایجوز لہما ان الواحد لایتصوران یکون مملکا ومتملکا کما فی البیع  
٢  الا ان الشافعی یقول فی الولی ضرورة لانہ لایتولاہ سواہ ولاضرورة فی الوکیل ٣ ولنا ان الوکیل فی النکاح معبر وسفیر والتمانع فی الحقوق دون التعبیر ولاترجع  الحقوق الیہ بخلاف البیع لانہ مباشر حتی رجعت الحقوق الیہ واذا تولی طرفیہ فقولہ زوجت یتضمن الشطرین ولایحتاج الی القبول  

ترجمہ :  ١  امام زفر  اور امام شافعی  فر ما تے ہیں کہ جائز نہیں ہے ، ان دو نوں کی دلیل یہ ہے کہ یہ تصور نہیں کیا جا سکتا ہے ایک ہی آدمی مالک بنانے والا بھی ہو اور مالک بننے والا بھی ہو ، جیسے کہ بیع میں ہو تا ہے ۔ 
تشریح :  امام زفر  اور امام شافعی  فر ما تے ہیں کہ ایک ہی آدمی اپنی جانب سے اصیل اور لڑکی کی جانب سے وکیل بنے ، اور ایک ہی آدمی نکاح کا ایجاب بھی کرے اور اس کو قبول بھی کرے یہ جائز نہیں ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ نکاح کا ایجاب کر کے بضع کا مالک بنا رہا ہے ، اور وہی قبول کر کے خود بضع کا مالک بن رہا ہے ، تو ایک ہی آدمی مالک بنا رہا ہو اور پھر خود ہی مالک بن بھی رہا ہو یہ نہیں ہو سکتا ، اس لئے ایک ہی آدمی اصیل بھی ہو اور وہی لڑکی کے لئے وکیل بھی ہو اس سے نکاح نہیں ہو گا ، اس کی ایک مثال دیتے ہیں ، کہ بیع میں ایک ہی آدمی بیچنے والا ہو اور وہی وکیل کے طور پر خریدنے والا ہو ایسا نہیں ہو تا ، اسی طرح یہاں بھی نہیں ہو گا ۔    
لغت:  مملکا : باب تفعیل سے ہے، مالک بنانا ، یہاں مراد ہے لڑکی کی جانب سے نکاح کا ایجاب کر کے اس کے بضع کا مالک بنانا۔متملکا: باب تفعل سے ہے ، مالک بننا ، خود اپنی جانب سے نکاح کو قبول کر نا ۔ 
ترجمہ : ٢  مگر امام شافعی  فر ما تے ہیں کہ ولی میں ضرورت ہے اس لئے کہ اس کے علاوہ ولی نہیں بن سکتا ، اور وکیل میں ضرورت نہیں ہے ۔ 
تشریح :  امام شافعی  اس بات کے قائل ہیں کہ ایک ہی آدمی دو نوں جانب سے وکیل نہیں بن سکتا ، لیکن چونکہ ولی دوسرا نہیں بن سکتا اس لئے ولی میں ضرورت ہے اس لئے اگر ولی ہے تو خود اپنی جانب سے اصیل ہو کر ایجاب کرے گا اور ولی ہو نے کی حیثیت سے لڑکی کی جانب سے قبول کرنے کی گنجائش ہو گی ۔
ترجمہ :٣  اور ہماری دلیل یہ ہے کہ نکاح میں وکیل تعبیر کرنے والا اور سفیر ہو تا ہے اور ممانعت حقوق میں ہے نہ کہ تعبیر میں ، اور حقوق وکیل کی طرف نہیں لوٹتے ، بخلاف بیع کے وہاں خود کرنے والا ہے یہاں تک کہ حقوق وکیل ہی کے طرف لوٹتے ہیں ، اور جب دو نوں طرف کا ولی بنا تو اس کا قول ٫زوجت ،دو نوں طرف کو شامل ہو گا اور قبول کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ 
تشریح :  ہماری دلیل یہ ہے کہ نکاح میںوکیل حقوق کا ذمہ دار نہیں ہو تا ہے ، صرف مؤکل کی بات کو نقل کر نے والا اوراس کو تعبیر 

Flag Counter