٢ وعندہما ہو ضرر ظاہر لعدم الکفاء ة فلایجوز واللہ اعلم
کرا دیا حالانکہ یہ اس کا کفو نہیں ہے تب بھی امام ابو حنیفہ کے یہاں نکاح جائز ہو گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ظاہری طور پر اگر چہ باپ نے غیر کفو میں ایک گھٹیا انسان سے نکاح کرا یا ہے ، لیکن باپ کی محبت سے قوی امید ہے کہ کفو کے علاوہ کوئی اور بڑی مصلحت ہو گی ، مثلا غلام بہت پڑھا لکھا ہے ، یا ہنر مند ہے جو دوسری جگہ نہیں مل سکتا ہے اس لئے باپ کا کرایا ہوا نکاح جائز ہو گا ۔
وجہ : اس حدیث میں ہے ۔ عن فاطمة بنت قیس ان ابا عمر و بن حفص طلقھا البتة و ھو غائب فذکر الحدیث الی ان قالت فلما حللت ذکرت لہ یعنی النبی ۖ ان معاویة و ابا جھم خطبانی فقال رسول اللہ ۖ اما ابو جھم فلا یضع عصاہ عن عاتقہ و اما معاویة فصعلوک لا مال لہ انکحی اسامة بن زید قالت فکرھتہ ثم قال انکحی اسامة فنکحتہ فجعل اللہ فیہ خیرا و اغتبطت بہ ۔ ( سنن بیہقی ، باب لا یرد نکاح غیر الکفو اذا رضیت بہ الزوجة و من لہ الامر معھا و کان مسلما ، ج سابع ، ص ٢٢٠، نمبر ١٣٧٧٤) اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ نے مصلحت کی بنا پر فاطمہ بنت قیس کا نکاح غیر کفو میں اسامہ بن زید سے کرا یا ، اور بعد میں اس سے بہت فائدہ ہوا ، اس لئے باپ بھی مصلحت کی بنا پر غیر کفو میں نکاح کرائے تو جائز ہو گا۔
نوٹ : یہ مسئلہ اس قاعدے پر ہے کہ امید ہے کہ باپ نے اور دادا نے کم مہر میں یا غیر کفو میں نکاح کرا یا ہے تو اس سے کوئی بڑی مصلحت ہو گی ، لیکن اگر تحقیق سے پتہ چل جائے کہ انہوں نے نا دانی میں یا کسی لالچ میں یہ نکاح کرا یا ہے تو قاضی کو اس نکاح کے توڑنے کا اور فسخ کر نے کا حق ہو گا ، کیونکہ تحقیق ہو گئی کہ کوئی مصلحت نہیںتھی ۔
وجہ : (١) اس حدیث میں اس کا ثبوت ہے ۔عن ابن عباس ان جاریة بکرا اتت النبی ۖ فذکرت ان اباھا زوجھا وھی کارھة فخیرھا النبی ۖ۔ (ابو داؤد شریف ، باب فی البکر یزوجھا ابوھا ولا یستامرھا ص ٢٩٢ نمبر ٢٠٩٦ دار قطنی، کتاب النکاح ج ثالث ص ١٦٣ نمبر ٣٥١٧) اس حدیث میں ہے کہ رشتہ مناسب نہیں تھا تو حضور ۖ نے نکاح کے توڑنے کا اختیار دیا (٢) اس حدیث میں ہے کہ نکاح کو توڑ دیا۔ عن ابی ھریرة ان خنساء بنت خذام انکحھا ابو ھا و ھی کارھة فأتت النبی ۖ فذکرت ذالک لہ ، فرد نکاحھا ، فتزوجھا ابو لبابة بن عبد المنذر ۔( دار قطنی ، کتاب النکاح ،ج ثالث ، ص ١٦٢، نمبر ٣٥١٤) اس حدیث میں ہے کہ رشتہ مناسب نہیں تھا تو حضور نے اس کے نکاح کو توڑ دیا ۔
ترجمہ : ٢ اور صاحبین کے نزدیک ظاہری ضرر ہے کفو نہ ہو نے کی بنا پر اس لئے جائز نہیں ہو گا ۔
تشریح : صاحبین کے نزدیک باپ نے غیر کفو میں نکاح کرا یا ہے اس لئے یہ ظاہری ضرر ہے اس لئے نکاح منعقد نہیں ہو گا ۔