حیث ہو جاز ولا ولاےة للابعد مع ولایتہ ٢ ولنا ان ہذہ ولاےة نظرےة ولیس من النظر التفویض الی من لاینتفع برایہ ففوضناہ الی الابعد ٣ وہو مقدم علی السلطان کما اذا مات الاقرب ٤ ولو زوجہا حیث ہو فیہ منع وبعد التسلیم نقول للابعد بعد القرابة وقرب التدبیر وللاقرب عکسہ فنز لا منزلة ولیین متساویین فایہما عقد نفذ ولایرد
حق قرابت کو بچانے کے لئے اس لئے اس کے غائب ہو نے سے باطل نہیں ہو گا ، اسی لئے اگر اس نے وہیں شادی کرائی جہاں وہ ہے تو جائز ہے اور دور والوں کا قریب والوں کے ساتھ ولایت نہیں ہے ۔
تشریح: امام زفر کی رائے یہ ہے کہ قریب کا ولی مو جود ہے چا ہے وہ مسافت کے اعتبار سے دور ہے اس لئے دور کے ولی کو نکاح کرانے کی ولایت نہیں ہو گی ۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ یہ ولایت نسب کو غیر کفو سے بچانے کے لئے ہے اس لئے اسکے غائب ہو نے سے اس کا حق باطل نہیں ہو گا ۔(٢) دور رہنے کے با وجود ولی اقرب کا حق ہے یہی وجہ ہے کہ جہاں وہ ہے وہاں نکاح کرا نا چا ہئے تو وہ کرا سکتا ہے ، اور جب اس کا حق مو جود ہے تو ولی اقرب کا حق ہو تے ہوئے ولی ابعد کا حق نہیں ہو گا ، اس لئے ولی اقرب کے دور رہتے ہوئے بھی ولی ابعد کو نکاح کرانے کا حق نہیں ہے ، ہاں وہ مر جائے تو اب ولی ابعد کو نکاح کی ولایت ملے گی ۔
ترجمہ : ٢ ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ ولایت نظری ہے ]مصلحت کے لئے ہے [ اور مصلحت کا تقاضا نہیں ہے کہ ایسے آدمی کو سونپے جسکی رائے سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا ہو اس لئے ولایت ولی ابعد کی طرف سونپا ۔
تشریح : ہماری دلیل یہ ہے کہ نکاح کرانے کی ولایت مصلحت کے لئے ہے ، اب جو آدمی اتنا دور ہے کہ اس کی رائے سے استفادہ کر نا مشکل ہے اس کو ولایت سونپنا مصلحت کے خلاف ہے اس لئے جو قریب رہتا ہے اس کو ولایت ہو گی۔
ترجمہ : ٣ دور کا ولی بادشاہ سے مقدم ہو گا جیسے ولی اقرب مر جائے تو ولی ابعد بادشاہ سے مقدم ہو تا ہے ۔
تشریح : ولی اقرب مر جائے تو بادشاہ سے پہلے ولی ابعد کو ولایت ملتی ہے اور ولی ابعد نہ ہو تب بادشاہ کو ولایت ملتی ہے ، اسی طرح ولی اقرب دور ہو تو اس کے بعد ولی ابعد کو ولایت ملے گی اور ولی ابعد نہ ہو تب بادشاہ کو ولایت ملے گی ۔
ترجمہ : ٤ جہاں ولی اقرب ہو وہیں شادی کرا دی تو شادی ہو جائے گی اس کو منع کرتے ہیں ، اور تسلیم کر نے کے بعد ہم یہ کہیں گے کہ ابعد کو قرابت کی دوری ہے لیکن تدبیر کی قربت ہے اور اقرب کے لئے اس کا الٹا ہے ، اس لئے دو نوں کو دو برابر کے ولی کے درجے میں اتار دیا جائے گا اس لئے جو بھی عقد کرے گا نافذ کر دیا جائے ، اور رد نہیں کیاجائے گا ۔
تشریح : یہ امام زفر کو جواب ہے ۔ انہوں نے استادلال کیا تھا کہ جہاں ولی اقرب ہے وہیں نکاح کرا دے تو نکاح ہو جا تا ہے