(١٥٥٧) واذا عدم الاولیاء فالولاےة الی الامام والحاکم ) ١ لقولہ علیہ السلام السلطان ولی من لا ولی لہ (١٥٥٨)فاذا غاب الولی الاقرب غیبة منقطعة جاز لمن ہو ابعد منہ ان یزوج ) ١ وقال زفر لایجوز لان ولاےة الاقرب قائمة لانہا تثبت حقاً لہ صیانة للقرابة فلا تبطل بغیبتہ ولہذا لو زوجہا
گا۔ ( ٤) اس آیت کے اشارے میں ہے۔ و أنکحوا الایامی منکم و الصالحین من عبادکم و امائکم ان یکونوا فقراء یغنیھم اللہ من فضلہ ۔( آیت ٣٢، سورة النور ٣٣) اس آیت میں ہے کہ اپنے غلام باندی کی شادی کراؤ جس سے معلوم ہوا کہ آقا عصبات کے طور پر نکاح کرا سکتا ہے ۔
ترجمہ : ( ١٥٥٧) اگر کوئی ولی نہ ہو تو ولایت امام اور حاکم کو ہے ۔
ترجمہ : ١ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے جس کا ولی نہیں سلطان اس کا ولی ہے۔
تشریح : جس کا ولی عصبہ بھی نہ ہو اور اقارب بھی نہ ہو تو اس کا ولی بادشاہ ہے ۔ اس کے لئے یہ حدیث جسکو صاحب ہدایہ نے پیش کی ہے ۔عن عائشة قالت قال رسول اللہ ایما امرأة نکحت بغیر اذن موالیھا فنکاحھا باطل ثلاث مرات فان دخل بھا فالمھر لھا بما اصاب منھا فان تشاجروا فالسلطان ولی من لاولی لہ۔ (ابو داؤد شریف ، باب فی الولی ص ٢٩١ نمبر ٢٠٨٣) اس حدیث میں ہے کہ جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی بادشاہ ہے ۔
ترجمہ : (١٥٥٨) اگر غائب ہو جائے ولی اقرب غیبت منقطعہ تو جائز ہے اس کے لئے جو اس کے دور کے لئے ہوکہ اس کی شادی کرادے۔
تشریح: قریب کا ولی ہے لیکن اس بچے سے اتنے دور رہتے ہیں کہ اس کا ہر وقت آنا مشکل ہے اور نکاح کرانا مشکل ہے تو اس سے دور کے ولی جو بچے کے قریب ہو اس کو حق ہے کہ بچے یا بچی کی شادی کرادے۔
وجہ :(١) دور کے ولی کا انتظار کرے گا تو ہو سکتا ہے کہ ملا ہوا جوڑا ہاتھ سے نکل جائے اور پھر ایسا جوڑا نہ ملے۔اس لئے دور کے ولی کو نکاح کرانے کا حق ہوگا (٢) یہ ولایت مصلحت کے لئے ہے۔اور قریب کے ولی کے دور ہونے کی وجہ سے مصلحت اسی میں ہے کہ دور کے ولی کو حق نکاح دے دیاجائے۔(٣)ان عائشة انکحت حفصة ابنة عبد الرحمن بن ابی بکر المنذر بن الزبیر و عبد الرحمن غائب فلما قدم عبد الرحمن غضب و قال أی عباد اللہ !أمثلی یقتات علیہ فی بناتہ ؟ فغضبت عائشة و قالت أترغب عن المنذر؟ ۔( مصنف ابن ابی شیبة ، باب من اجاز بغیر ولی و لم یفرق، ج ثالث ، ص ٤٤٤، نمبر ١٥٩٤٩) اس اثر میں ہے کہ قریب کا ولی حاضر نہیں تھا تو اس سے دور کے ولی نے شادی کرائی ۔
ترجمہ : ١ امام زفر نے فر ما یا کہ جائز نہیں ہے ، اس لئے کہ قریب والے کی ولایت قائم ہے اس لئے کہ ثابت ہو تا ہے اس کا