(١٥٥٩) والغیبة المنقطعة ان یکون فی بلد لاتصل الیہ القوافل فی السنة الامرة ) ١ وہو اختیار القدوری ٢ وقیل ادنی مدة السفر لانہ لانہاےة لاقصاہ وہو اختیار بعض المتأخرین ٣ وقیل اذا کان بحال یفوت الکفو باستطلاع رایہ وہذا اقرب الی الفقہ لانہ لا نظر فی ابقاء ولایتہ حینئذٍ
، فر ما تے ہیں کہ ہم اس کو تسلیم نہیںکرتے ہیں ، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ و٣ہاں اس کی شادی نہیں ہو گی ، اس لئے اس دلیل کو پیش کر نا مناسب نہیں ۔ اور اگر ہم تسلیم کر لیں کہ جہاں ولی ا قرب رہتا ہے وہاں شادی کرا نا جائز ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ دو نوں ولیوں میں ایک ایک خوبی ہے اور ایک ایک خرابی بھی ہے اس لئے دو نوں برابر درجے کے ولی بن گئے ، اس لئے دو نوں میں سے جو بھی شادی کرائے گا وہ شادی کراناجائز ہو جائے گا ۔ ولی اقرب میں خوبی یہ ہے کہ وہ رشتہ داری کے اعتبار سے قریب ہے لیکن دور رہنے کی وجہ سے تد بیر کر نے سے دور ہے ، اور ولی ابعد رشتہ داری کے اعتبار سے دور ہے لیکن قریب رہنے کی وجہ سے تدبیر کے اعتبار سے قریب ہے اس لئے دونوں برابر درجے کے ولی بن گئے ، اس لئے ولی ابعد کو بھی نکاح کرانے کا حق ہو گا ۔
ترجمہ : (١٥٥٩) اور غیبت منقطعہ یہ ہے کہ ایسے شہر میں ہو کہ قافلہ وہاں تک نہیں پہنچتا ہو سال میں مگر ایک مرتبہ۔
ترجمہ : ١ یہ امام قدوری کا اختیار کیا ہوا ہے ۔
تشریح: یہ غیبت منقطعہ کی تفسیر میں اختلاف ہے یہاں تین تفسیریں پیش کی جا رہی ہے ]١[ایک تفسیریہ ہے کہ قریب کے ولی اتنی دوری پر رہتا ہو کہ وہاں تک قافلہ سال بھر میں ایک مرتبہ جاتا ہو۔]٢[اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ مدت سفر پر ہو یعنی وہ تقریبا اڑتالیس میل دور رہتا ہو جو مدت سفر ہے۔]٣[اور تیسری تفسیر یہ ہے کہ اتنی دور رہتا ہو کہ اس کے آتے آتے جوڑا فوت ہو جانے کا خطرہ ہو تو اس کو غیبت منقطعہ کہتے ہیں۔
ترجمہ : ٢ اور کہا گیا ہے کہ سفر کی ادنی مدت ، اس لئے کہ زیادہ کی تو کوئی انتہاء نہیں ہے ، یہ مسلک بعض متاخرین کا اختیار کیا ہوا ہے ۔
تشریح : بعض متأخرین کا اختیار کیا ہوا مسلک یہ ہے کہ ولی اقرب مدت سفر کی مسافت پر ہو تو اس کو دور سمجھا جائے گا اور ولی ابعد کو ولایت ہو گی ، اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ اس لئے کہ مدت سفر کی کوئی انتہاء نہیں ہے اس لئے ادنی مدت سفر کو دوری کا معیار قرار دیا جائے اور وہ اڑتالیس میل ہو تا ہے ۔
ترجمہ : ٣ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ولی اقرب اس حال میں ہو کہ اس کی رائے کے معلوم کر نے سے کفو فوت ہو جائے ، اور یہ مسلک فقہ کے زیادہ قریب ہے اس لئے کہ اس وقت اس کی ولایت کے باقی رکھنے میں کوئی مصلحت نہیں ہے ۔
تشریح : بعض حضرات نے فر ما یا کہ ولی اقرب اتنی دوری پر ہو کہ اس کی رائے معلوم کرتے کرتے جوڑا ہی ختم ہو جائے اور کفو