٣ ولابی حنیفة ان الولاےة نظرےة والنظر یتحقق بالتفویض الی من ہو المختص بالقرابة الباعثة علی الشفقة (١٥٥٦) ومن لا ولی لہا ]یعنی العصبة من جہة القرابة[ اذا زوجہا مولاہا ) ١ الذی اعتقہا جاز لانہ اٰخر العصبات
یہ ہے کہ عصبات خاندان کے لوگ ہو تے ہیں اور اقارب خاندان کے علاوہ کے لوگوں کو کہاجاتا ہے ۔ نکاح کی ولایت اس لئے ہے کہ اس خاندان میں غیر کفو کے لوگ نہ آجائیں اور یہ جذبہ صرف عصبات میں ہو تا ہے کہ میرے خاندان میں غیر کفو کے لوگ نہ آجائیں ، غیر خاندان کو اس کی پرواہ نہیں ہو گی اس لئے ولایت صرف عصبات کو ہو نی چاہئے ۔
لغت: صونا بچانا ،محفوظ رکھنا ۔و الی العصبات الصیانة : غیر کفو سے بچانے کی ذمہ داری عصبات کو ہے ۔
ترجمہ : ٣ امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ یہ ولایت مصلحت کے لئے ہے اور جوایسی قرابت کے ساتھ خاص ہے جو شفقت پر ابھار نے والی ہے اس کو سونپنے سے مصلحت متحقق ہو گی ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ نکاح کرانے کی ولایت نظری ہے یعنی مصلحت کے لئے ہے اس لئے ایسے رشتہ دارجس میں شفقت کا داعیہ ہو اس کو ولایت سونپنا مصلحت کے مطابق ہے اس لئے عصبات کے نہ ہو تے وقت اقارب کو سونپنا بھی مصلحت کے مطابق ہو گی ، اس لئے عصبات کے نہ ہو تے وقت اقارب کو نکاح کرانے کا حق ہو گا ، اصل تو اوپر کا اثر ہے ۔ ترجمہ : (١٥٥٦) جس کا کوئی ولی نہیں ہے] یعنی عصبہ قرابت کی جانب سے ہو [ اگر اس کی شادی اس آقا نے کروائی۔
ترجمہ : ١ جس نے آزاد کیا ہے تو جائز ہے اس لئے کہ وہ آخری عصبات ہے۔
تشریح: کوئی باندی آزاد کی ہوئی تھی اور اس کا کوئی ولی نہیں ہے ۔اب جس آقا نے آزاد کیا تھا اس نے باندی کی شادی کرائی تو جائز ہے۔
وجہ: (١)کیونکہ کوئی عصبہ نہ ہو تو آخر میں آزاد کرنے والا مولی غلام باندی کاعصبہ ہوتا ہے۔ اور جب عصبہ ہے تو اس کو شادی کرانے کا بھی حق ہوگا۔(٢) حدیث میں ہے ۔عن عائشة قالت اشتریت بریرة فقال النبی ۖ اشتریھا فان الولاء لمن اعتق۔ (بخاری شریف، باب الولاء لمن اعتق ومیراث اللقیط ، ص ٩٩٩، نمبر ٦٧٥١) اس حدیث میں ہے کہ جس نے آزاد کیا اس کوغلام کا مال بطور عصبہ ملیگا۔(٣) عن علی وعبد اللہ وزید بن ثابت انھم کانوا یجعلون الولاء للکبر من العصبة ولا یرثون النساء الا ما اعتقن او اعتق من اعتقن (سنن للبیہقی ، باب لا ترث النساء الولاء الا من اعتقن او اعتق من اعتقن ، ج عاشر، ص ٥١٥، نمبر ٢١٥١١ مصنف ابن ابی شیبة ،٩٧ فیمن ترث النساء من الولاء وما ھو؟ ، ج سادس، ص ٢٩٢، نمبر ٣١٤٩٥) اس اثر میں ہے کہ آقا آخری عصبات ہے اس لئے کوئی خاندانی عصبہ نہ ہو تو اس کو عصبہ کے طور پر نکاح کرانے کا حق ہو