١ عند ابی حنیفة معناہ عند عدم العصبات وہذا استحسان ٢ وقال محمد لا یثبت وہو القیاس وہو رواےة عن ابی حنیفة وقول ابی یوسف فی ذلک مضطرب والاشہر انہ مع محمد لہما ماروینا ولان الولاےة انما تثبت صونا للقرابة عن نسبة غیر الکفو الیہا والی العصبات الصیانة
ترجمہ : ١ امام ابو حنیفہ کے نزدیک، اس کا مطلب یہ ہے کہ عصبات نہ ہو تو ، اور یہ استحسان کا تقاضا ہے ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ اگر قریب کے ولی نہ ہوں مثلا عصبات میں سے کوئی ولی نہ ہو تو ذوی الارحام میں سے دوسرے رشتہ داروں کو بالترتیب شادی کرانے کا حق ہوگا، جنکواقارب کہتے ہیں ، یہ استحسان کا تقاضا ہے ، اور اگر عصبات میں سے کوئی مو جود ہو تو اقارب کو ولایت نہیں ہو گی ۔
وجہ : (١) یہ ولایت مصلحت کے لئے ہے۔اور رشتہ دار چاہے دور کے ہوں اس میں شفقت ہوتی ہے۔ اس لئے مصلحت کا تقاضا ہے کہ ان کو شادی کرانے کا حق دیا جائے (٢) اثر میں ہے کہ حضرت عائشہ نے اپنے رشتہ دار کی شادی کرائی حالانکہ وہ عصبات والی ولیہ نہیں تھیں۔عن ابن عباس قال انکحت عائشة ذات قرابة لھا من الانصار فجاء رسول اللہ فقال اھدیتم الفتاة؟ قالوا نعم ۔ (ابن ماجہ شریف ، باب الغناء والدف ،ص ٢٧٣ ،نمبر ١٩٠٠) اس حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ نے اپنے رشتہ دار کی شادی کرائی۔جس سے معلوم ہوا کہ ذوی الارحام عورت ہو تو بھی عصبات نہ ہوتے وقت شادی کراتی ہے(٣) ۔قال ابن عمر فزوجنیھا خالی قدامة وھو عمھا ولم یشاورھا (سنن ابن ماجہ شریف ، باب نکاح الصغار یزوجھن غیر الآباء ص ٢٦٩ نمبر ١٨٧٨) اس اثر میں قدامہ ماموں نے شادی کرائی جس سے معلوم ہوا کہ غیر عصبات شادی کرا سکتا ہے۔
ترجمہ : ٢ امام محمد نے فر ما یا کہ اقارب کو ولایت ثابت نہیں ،اور قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے ، اور امام ابو حنیفہ سے ایک روایت یہی ہے ، اور امام ابو یوسف کا قول اس میںمضطرب ہے اور مشہور یہ ہے کہ وہ امام محمد کے ساتھ ہیں ۔ ان دو نوں کی دلیل وہ حدیث ہے جو ہم نے روایت کی ، اور اس لئے کہ ولایت غیر کفو کے ساتھ نسبت سے قرابت کو بچانے کے لئے ہے ، اور عصبات کی طرف ہی بچا نا ہے ۔
تشریح : امام محمد کی رائے یہ ہے کہ عصبات کے علاوہ جو رشتہ دار ہیں جنکو اقارب کہتے ہیں انکو نکاح کرانے کی ولایت نہیں ہے ، امام ابو حنیفہ کی بھی ایک روایت یہی ہے ، اور امام ابو یوسف کا قول اس بارے میں مضطرب ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ وہ امام محمد کے ساتھ ہیں ۔
وجہ : (١)ایک دلیل وہ حدیث ہے جو پہلے بیان کیا ، یعنی، قولہ علیہ السلام : النکاح الی العصبات۔ جسکا ترجمہ یہ تھا کہ نکاح کی ولایت عصبات کو ہے ، اس لئے عصبات کو ہی نکاح کی ولایت ہو گی اقارب کو نہیں ۔ نوٹ۔یہ حدیث ملی نہیں تھی ۔(٢) دوسری وجہ