Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

115 - 465
 ١   لقولہ تعالی ولن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا  ٢  ولہذا لاتقبل شہادتہ علیہ ولا یتوارثان ٣   اما الکافر فیثبت لہ ولاےة الا نکاح علی ولدہ الکافر لقولہ تعا لی والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض ولہذا تقبل شہاد تہ علیہ ویجری بینہما التوارث (١٥٥٥) ولغیرالعصبات من الاقارب ولاےة التزویج ) 

ترجمہ: ١  اللہ تعالی کے قول ۔ولن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا۔(آیت ١٤١ سورة النساء ٤) کی وجہ سے۔ 
 وجہ :   (١)اور کافر کو مسلمان پر ولایت نہیں ہے اس کی دلیل یہ آیت ہے۔ولن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا ۔(آیت ١٤١ سورة النساء ٤) اس آیت میں ہے کہ کافر کو مؤمنین پر کوئی راستہ نہیں ہے۔اس لئے کافر کو مسلمان پر ولایت نہیں ہوگی۔
ترجمہ: ٢  اسی لئے کافر کی گواہی مسلمان کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی ، اور نہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے ۔ 
تشریح : کافر مسلمان کا ولی نہیں بنے گا ، اس کی دو دلیلیں یہ ہیں کہ ]١[ کافر مسلمان کے خلاف گواہی دے تو قبول نہیں کی جائے گی، ]٢[ اسی طرح کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو گا اور نہ مسلمان کافر کا وارث ہو گا ، اور اسکی وجہ یہی ہو گی کہ کافر مسلمان کا ولی نہیں ہے۔
ترجمہ : ٣  بہرحال کافر کو ا پنے کافر بچے کے نکاح کرانے کی ولایت ہے، اللہ تعالی کے قول والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض کی وجہ سے۔( آیت ٧٣، سورة الانفال ٨) اس آیت میں ہے کہ کافر بعض بعض کے ولی ہیں اس لئے کافر اپنے کافر بچے کے نکاح کرانے کا ولی ہو گا ۔ 
تشریح :   کافر آدمی اپنے کافر بچے کے نکاح کرانے کا ولی ہے ۔ 
وجہ :   (١) اوپر کی آیت میں ہے کہ کافر بعض بعض کے ولی ہیں ۔(٢) اس لمبی حدیث میں ہے کہ حضرت خدیجہ کے والد کافر تھے اور اس نے اپنی بچی حضرت خدیجہ  کا کفر کی حالت میں حضورۖ سے نکاح کرا یا ۔ حدیث کا ٹکڑا یہ ہے ۔عن ابن عباس فیما یحسب حماد ان رسول اللہ ۖ ذکر خدیجة بنت خویلد ....فقالت خدیجة  لأبیھا ان محمدا یخطبنی فزوجہ فزوجھا ایاہ ۔( سنن  بیہقی ، باب لا ولایة لاحد مع اب ، ج سابع ، ص٢٠٩، نمبر ١٣٧٤٦)  اس حدیث میں ہے کہ حضرت خدیجہ  کی شادی اس کے باپ نے کروائی ۔ جس سے معلوم ہواکہ کافر آدمی اپنی کافر اولاد کا ولی بن سکتا ہے ۔(٣)اسی لئے کافر کی شہادت کافر کے خلاف قبول کی جاتی ہے اور کافر کافر کا وارث بھی بنتا ہے ، اس لئے ولی بھی بن سکتا ہے ۔ 
 ترجمہ : (١٥٥٥) عصبات کے علاوہ جو اقارب ہیں انکو بھی نکاح کرانے کی ولایت ہے ۔ 

Flag Counter