Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

113 - 465
(١٥٥٢) وان مات احدہماقبل البلوغ ورثہ الاٰخروکذا اذامات بعد البلوغ قبل التفریق ) ١ لان اصل العقد صحیح والملک الثابت بہ انتہی بالموت ٢ بخلاف مبا شرة الفضولی اذا مات احدالزوجین قبل الاجازة لان النکاح ثمہ موقوف فیبطل بالموت 

تشریح :  جس عورت کو شوہر نے طلاق دینے کا اختیار دیا ہے اس کو مخیرہ کہتے ہیں ۔ مخیرہ نے اپنے آپ کو طلاق دی تو یہ فسخ نکاح نہیں سمجھا جائے گا ، بلکہ طلاق شمار کی جائے گی ، اس  کی وجہ یہ ہے کہ یہ طلاق ظاہری طور پر عورت کی جانب سے ہے لیکن حقیقت میں مرد کی جانب سے ہے ، کیونکہ شوہر نے ہی عورت کو طلاق کا مالک بنا یا تھا ، اور شوہر طلاق دینے کا مالک تھا تو گویا کہ مرد کی جانب سے طلاق ہوئی اس لئے یہ طلاق شمار کی جائے گی ۔  
ترجمہ : ( ١٥٥٢)  اگر بالغ ہو نے سے پہلے دو نوں میں سے ایک  مر گیا تو دوسرا اس کا وارث ہو گا ، ایسے ہی بالغ ہو نے  کے بعد تفریق سے پہلے مر گیا ]تو وارث ہو گا [۔
تشریح :   یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ تفریق سے قبل دو نوں کا نکاح مستحکم ہے ، اس لئے دو نوں میں سے ایک مر گیا تو دوسرا اس کا وارث ہو گا کیونکہ موت کے بعد اب نکاح ٹو ٹنے کا سوال نہیں ہو تا، بلکہ نکاح اور مضبوط ہو گیا ۔بالغ ہو نے سے پہلے دو نوں میں سے ایک مر گیا تو چونکہ ابھی تک نکاح ٹوٹا نہیں ہے اور موت کے بعد ٹوٹنے کا سوال بھی نہیں ہو تا ہے ، اس لئے نکاح مستحکم ہی رہا اس لئے ایک دوسرے کا وارث ہو گا ، مثلا اگر لڑکا مر گیا تو لڑکی اس کا وارث ہو گی ، اور لڑکی  مر گئی تو لڑکا اس کا وارث ہو گا ۔ ایسے ہی لڑکی بالغ ہوئی لیکن ابھی نکاح نہیں توڑا تھا کہ دو نوں میں سے ایک کا انتقال ہو گیاتب بھی ایک دوسرے کا وارث ہو گا ۔
ترجمہ : ١  اس لئے کہ اصل عقد صحیح ہے اور اسی سے ملک بضع ثابت ہو جا تا ہے ، اور موت سے نکاح اور مضبوط ہو گیا ]اس لئے وارث ہو گا [۔ 
تشریح :   یہ دلیل عقلی ہے کہ پہلے جو نکاح ہوا ہے وہ صحیح ہے اور اس کی وجہ سے شوہر وطی کر نے کا حقدار ہے ، یہی و جہ ہے کہ ٹوٹنے سے پہلے شوہر وطی کر سکتا ہے ، اور موت کی وجہ سے نکاح انتہی کو پہونچ گیا ، یعنی اور مضبوط ہو گیا ، کیونکہ اب نکاح ٹوٹنے کا سوال پیدا نہیں ہو تا اور جب بیوی ہو نے کی حالت میں موت ہوئی ہے اس لئے ایک دوسرے کا وارث ہو گا ۔ 
لغت:   انتہی بالموت : موت کی وجہ سے نکاح کا معا ملہ آخری کو پہنچ گیا ۔ مراد یہ ہے کہ موت سے نکاح کا معاملہ مضبوط ہو گیا ۔  
ترجمہ : ٢  بخلاف فضولی کے نکاح کر نے کے جب کہ اجازت سے پہلے میاں بیوی میں سے کوئی مر جائے ]تو وارث نہیں ہو گا[ اس لئے کہ نکاح  وہاں موقوف ہے اس لئے موت سے نکاح باطل ہو جائے گا ۔
تشریح :   فضولی اس کو کہتے ہیں کہ میاں اور بیوی کے حکم کے بغیر ولی کے علاوہ نکاح کرائے ، چونکہ یہ ولی بھی نہیں ہے اور اس کو 

Flag Counter