٣ کما فی خیارالمخیرة (١٥٥١)ثم الفرقةبخیارالبلوغ لیس بطلاق ) ١ لانہا تصح من الانثیٰ ولاطلاق الیہا ٢ وکذا بخیارالعتق لما بینا ٣بخلا ف المخےرة لان الزوج ہوالذی ملّکہا وہومالک للطلاق
ترجمہ : ٣ جیسا کہ اختیار دی ہوئی عورت کے اختیار کے بارے میں ہو تا ہے ۔
تشریح : کمافی خیار المخیرة : یہ دوسری مثال ہے کہ ، عورت کو شوہر نے طلاق دینے کا اختیار دیا ہو تو چونکہ دوسرے کے اختیار دینے سے اختیار ملا ہے اس لئے یہ اختیار مجلس تک ہی باقی رہے گا ، مجلس کے ختم ہو تے ہی اختیار ختم ہو جائے گا ۔
لغت: خیار : طلاق دینے کا اختیار ۔ مخیرة : جس عورت کو شوہر نے طلاق دینے کا اختیار دیا ہو ۔
ترجمہ : (١٥٥١) پھر خیار بلوغ کی وجہ سے فرقت طلاق نہیں ہے ۔
ترجمہ : ١ اس لئے کہ عورت کی جانب سے صحیح ہو تا ہے حالانکہ اس کی جانب سے طلاق نہیں ہو تی ہے ۔
تشریح : خیار بلوغ کی وجہ سے عورت نے نکاح توڑا تو یہ توڑنا طلاق نہیں سمجھی جائے گی بلکہ فسخ نکاح سمجھا جائے گا ۔
وجہ : اس کی وجہ یہ ہے کہ خیاربلوغ کے ماتحت نکاح کا توڑنا عورت کی جانب سے ہو تا ہے اور عورت کی جانب سے طلاق نہیں ہو تی ، اس لئے یہ طلاق نہیں ہے ، فسخ نکاح ہے ۔
لغت : طلاق اور فسخ نکاح میں فرق : یہ ہے کہ]١[ اگر اس کو طلاق شمار کیا جائے تو اس طلاق کے بعد اس عورت سے نکاح کرے تو شوہر اب صرف دو طلاقوں کا مالک ہو گا ، یعنی صرف دو طلاق سے عورت مغلظہ ہو جائے گی ، کیونکہ ایک طلاق پہلے ہو چکی ہے، اور اگر فسخ نکاح قرار دیں تو وہ طلاق نہیں ہوئی اس لئے شوہر اب تین طلاقوں کا مالک ہو گا ، کیونکہ پہلے کوئی طلاق واقع نہیں ہو ئی ہے ۔ ]٢[ دوسرا فرق یہ ہے کہ اگر دخول سے پہلے نکاح ٹوٹا ہو اور اس کو طلاق قرار دی جائے تو شوہر پر آدھا مہر لازم ہو گا ، کیونکہ دخول سے پہلے طلاق ہو نے سے آدھا مہر ہی لازم ہو تا ہے ، اور اگر فسخ نکاح قرار دیاجائے تو اس کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ گو یا کہ نکاح ہوا ہی نہیں اس لئے کچھ بھی لازم نہیں ہو گا ]٣[ طلاق کامطلب یہ ہو تا ہے کہ نکاح ہو کر پھر طلاق ہوئی ، اور فسخ نکاح کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ گویا کہ شروع سے نکاح ہوا ہی نہیں ۔
ترجمہ : ٢ اور ایسے ہی خیار عتق کی وجہ سے ] فسخ نکاح ہو گا [اس دلیل کی بنا پر جو میں نے بیان کیا ۔
تشریح : باندی کو خیار عتق ملا جسکی وجہ سے اس نے نکاح توڑ دیا تو یہ توڑنا بھی فسخ نکاح ہو گا ، طلاق نہیں ہو گی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ توڑنا عورت کی جانب سے ہوا اور عورت کی جانب سے طلاق نہیں ہوتی اس لئے اس کو فسخ نکاح ہی قرار دیا جائے گا ۔
ترجمہ : ٣ بخلاف اختیار دی ہوئی عورت کے اس لئے کہ شوہر نے اس کو طلاق کامالک بنا یا ہے ، اور شوہر تو طلاق کامالک تھا۔