١ لانہ ماثبت باثبات الزوج بل لتوہم الخلل فانما یبطل بالرضاء غیر ان سکوت البکر رضا
٢ بخلاف خیارالعتق لانہ ثبت باثبات المولی وہوالاعتاق فیعتبر فیہ المجلس
سے نہیں ہے اسلئے مجلس میں ختم نہیں ہو گا ، بلکہ مجلس کے بعد بھی زبان سے ہاں یا نا کہہ سکتا ہے
ترجمہ : ١ اس لئے کہ شوہر کے ثابت کر نے سے ثابت نہیں ہوا ہے ، بلکہ خلل کے وہم کے وجہ سے ہوا ہے ، اس لئے راضی ہو نے سے خیار باطل ہو گا ، یہ اور بات ہے کہ باکرہ کاچپ رہنا ہی رضامندی ہے ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے اور یہاں سے دو قاعدہ بیان کر رہے ہیں پہلے اس کو سمجھیں کیونکہ یہ عبارت پیچیدہ ہے پھر تشریح کریں گے ۔ (١)ایک قاعدہ یہ ہے کہ دوسرا آدمی نکاح توڑنے کا اختیار دے تو وہ اختیار مجلس تک ہی باقی رہتا ہے ، مجلس کے بعد نہیں، اور مجلس میں بھی اس اختیار کو لینے سے اعراض کا پتہ چلے تو مجلس باقی رہنے کے با وجود بھی وہ اختیار ختم ہو جائے گا ، مثلا]١[ آقا نے باندی کو آزاد کیا تو گو یا کہ آقا نے باندی کو خیار عتق دیا تو چونکہ دوسرے نے خیار عتق دیا اس لئے یہ مجلس تک ہی باقی رہے گا ، اگر مجلس ختم ہو گئی اور خیار عتق کے ما تحت باندی نے نکاح نہیں توڑا تو اب خیار عتق نہیں ملے گا ]٢[ یا شوہر نے بیوی کو طلاق دینے کا اختیار دیا تو چونکہ دوسرے نے اختیار دیا اس لئے یہ اختیار مجلس تک ہی رہے گا ، مجلس ختم ہو جانے کے بعد عورت کو طلاق دینے کا اختیار نہیں رہے گا ۔(٢) اوردوسرا قاعدہ یہ ہے کہ جو اختیار دوسرے کے دینے کی وجہ سے نہ ہو بلکہ خود بخود حاصل ہوا ہو وہ مجلس کے ساتھ خاص نہیں ہو تا ، مجلس کے بعد بھی باقی رہتا ہے ، خیار بلوغ دوسرے کے دینے کی وجہ سے حاصل نہیں ہو تا ،بلکہ اس وہم کی وجہ سے حاصل ہو تا ہے کہ ولی نے شاید غلط جگہ شادی کرا دی ہو اس نقصان کو دور کر نے کے لئے خیار بلوغ حاصل ہو تا ہے اس لئے یہ اختیار مجلس کے بعد بھی باقی رہے گا ۔ تشریح عبارت یہ ہے کہ شوہر کے ثابت کر نے سے اختیار ثابت نہیں ہوا ہے بلکہ اس وہم کی وجہ سے خیار بلوغ ملا ہے کہ ولی نے غلط جگہ شادی کرا یا ہو اور خلل واقع ہو گیا ہو تو گو یا کہ اختیار خود بخود ملا ، اس لئے مجلس کے بعد تک اختیار ملے گا ، اور جب تک رضیت نہ کہے اختیار باطل نہیں ہو گا ، یہ اور بات ہے کہ باکرہ لڑکی کا چپ رہنا ہی رضامندی ہے اس لئے چپ رہتے ہی مجلس کے اندر ہی اختیار ختم ہو جائے گا ، اور ثیبہ اور لڑکے کو بعد تک اختیار رہے گا ۔
ترجمہ : ٢ بخلاف خیار عتق کیاس لئے کہ آقا کے ثابت کرنے سے ثابت ہوا ہے اور وہ آزاد کر نا ہے اس لئے اس میں مجلس کا اعتبار کیا جائے گا ۔
تشریح : اس عبارت میں دوسرا قاعدہ بیان کیا جا رہا ہے ، یعنی دوسرے کے اختیار دینے سے اختیار ملا ہو تو وہ اختیار مجلس تک ہی باقی رہے گا ۔ باندی کو آقا نے آزاد کیا تو دوسرے کے آزاد کرنے سے خیار عتق ملا ہے اس لئے اس میں مجلس کا اعتبار کیا جائے گا ، اور مجلس کے ختم ہو تے ہی خیار عتق ختم ہو جائے گا۔