وان لم تعلم بالنکاح فلہا الخیار حتی تعلم فتسکت ) ١ شرط العلم باصل النکاح لانہا لاتتمکن من التصرف الابہ والولی یتفرد بہ فعذرت بالجہل ٢ ولم یشترط العلم بالخیار لانہا تتفرغ لمعرفة احکام الشرع والدار دار العلم فلم تعذر بالجہل
تشریح : یہاں دو باتیں ہیں ]١[ نکاح کا علم ، ]٢[ دوسرا کہ مجھے خیار بلوغ حاصل ہے ۔امام ابو حنیفہ اور امام محمد نزدیک، یعنی جن حضرات کے نزدیک لڑکی کو خیار بلوغ ہو تا ہے ، انکے نزدیک یہ شرط ہے کہ بالغ ہو نے سے پہلے لڑکی کو یہ علم ہو کہ ولی نے میرا نکاح کرا یا ہے اور پھر بھی بالغ ہو نے کے بعد نکاح توڑنے سے چپ رہی تو یہ نکاح سے رضامندی سمجھی جائے گا اور نکاح مؤکد ہو جائے گا ، اس کے بعد پھر نکاح کو توڑنا چاہے تو اب نکاح نہیں توڑ پائے گی ،کیونکہ لڑکیوں کاچپ رہنا رضامندی سمجھی جاتی ہے اور اس سے نکاح موکد ہو جا تا ہے ۔ اور اگر پہلے سے نکاح ہو نے کا علم نہیں تھا ، بالغ ہو نے کے بعد اس کا علم ہوا تو جس مجلس میں اس کا علم ہوا اس مجلس میں چپ رہی تو یہ بھی رضامندی سمجھی جائے گی اور نکاح مؤکد ہو جائے گا ۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ ہے کہ ولی لڑکی کو بغیر خبر دئے ہوئے بھی نکاح کر سکتا ہے ، اس لئے کوئی ضروری نہیں ہے کہ لڑکی کو بلوغ تک نکاح کی خبر ہوئی ہو ، اس لئے جب تک نکاح ہو نے کی خبر نہ ہو وہ نکاح نہ توڑنے میں معذور ہے ۔
اصول : خیار بلوغ استعمال کرنے کے لئے ضروری ہے کہ لڑکی کو نکاح ہو نے کی خبر ہو ۔
ترجمہ : ١ اصل نکاح کا علم شرط ہے اس لئے کہ نکاح کے علم کے بغیر تصرف نہیں کر سکتی ، اور ولی کبھی اپنے طور بھی نکاح کر سکتا ہے اس لئے لڑکی کو نکاح کا علم نہ ہو نا عذر کی چیز ہے ۔
تشریح : بالغ ہو نے کے بعد چپ رہنے سے نکاح اس شرط پرمؤکد ہو گا کہ اس کو نکاح ہونے کا علم ہو ، اس لئے نکاح کے علم ہو نے کے بعد ہی خیار بلوغ کو استعمال کر سکتی ہے ، اس کو نکاح کی خبر نہ ہو تو خیار بلوغ کو کیسے استعمال کرے گی ! اور ولی کو یہ حق ہے کہ لڑکی کو خبر دئے بغیر ہی نکاح کرا دے ، اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لڑکی کو نکاح کی خبر نہ ہو اس لئے وہ کیسے نکاح توڑنے کو استعمال کر سکتی ہے ؟اس لئے نکاح کا علم نہ ہو نے سے وہ معذور قرار دی جائے گی ، اور جاننے کے بعد چپ رہے گی تب رضا سمجھی جائے گی ۔
ترجمہ : ٢ اور خیار بلوغ کا علم ہو نا شرط نہیں ہے اس لئے کہ وہ شریعت کے احکام کے لئے فارغ ہو سکتی ہے ، اور دار الاسلام دار العلم ہے اس لئے نہ جا ننے سے معذور نہیںہو گی ۔
تشریح : لڑکی کو نکاح کا علم تھا لیکن یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ اس کو خیار بلوغ حاصل ہے اور اس کے ذریعہ سے نکاح توڑ سکتی ہے اب وہ بالغ ہو نے کے بعد نکاح توڑنے سے چپ رہی تو یہ رضا سمجھی جائے گی ۔
وجہ : یہ دار الاسلام ہے جس میں اس قسم کے مسئلے عام طور م مشہور ہوتے ہیں اور عورت آزاد ہے اس لئے ایسے مسئلے کو معلوم کر نے