٦ وخیار العتق لدفع ضرر جلی وہو زیادة الملک علیہا ولہذا یختص بالانثی فاعتبر دفعاً والدفع لایفتقر الی القضاء (١٥٤٨)ثم عندہما اذا بلغت الصغیرة وقدعلمت بالنکاح فسکتت فہو رضا
رکھیں ۔ ]١[ ایک ہے دوسرے پر الزام لگانا ، اس کے لئے قاضی کا فیصلہ ضروری ہے ، کیونکہ دوسروں پر الزام لگا رہا ہے ۔ ]٢[ دوسرا ہے اپنے اوپر آنے والے ضرر کو دفع کر نا ، اس کے لئے قاضی کے فیصلے کی ضرورت نہیں ہے خود سے بھی ضرر کو دفع کر سکتا ہے ۔ اب خیار بلوغ میں صرف اس بات کا وہم ہے کہ ولی نے صحیح جگہ پر نکاح نہیں کرا یا ہے اس لئے اس کو توڑنے کا اختیار ہو ، اس صورت میں ولی پر غلط جگہ پر نکاح کرانے کا الزام لگا یا جا رہا ہے ۔ اور غلطی کوئی واضح بھی نہیں ہے صرف وہم ہے کہ غلط جگہ پر نکاح کرا یا ہو اس لئے اس کو ضرر خفی ، یعنی پوشیدہ ضرر کہتے ہیں ، اس لئے نکاح توڑنے کے لئے قضاء قاضی کی ضرورت پڑے گی ۔
ترجمہ : ٦ اورخیارعتق کی وجہ سے اختیارملنا بڑے ضرر کو دفع کر نے کے لئے ہے اور وہ ہے باندی پر ملک کا زیادہ ہو نا ، اسی لئے وہ مؤنث کے ساتھ خاص ہے تو اعتبار کیا گیا ہے ضرر کے دفع کرنے کا اور دفع میں قضا کی ضرورت نہیں ہے ۔
تشریح : خیار عتق میں قضاء قاضی کی ضرورت نہ ہو نے کی یہ دلیل عقلی ہے ، کہ کسی پر الزام لگا نا نہیں ہے بلکہ اپنے اوپر آنے والے واضح ضرر کو دفع کر نا ہے ، کیونکہ باندی کا شوہر پہلے دو طلاق کا مالک تھا ، یعنی دو طلاق سے باندی مغلظہ ہو جاتی تھی ، اب آزاد ہو نے کے بعد اس کا شوہر تین طلاق کا مالک بنے گا ، یعنی اب تین طلاق سے باندی مغلظہ بنے گی ، اب شوہر بیوی پر تیسری طلاق کا مالک ہو جائے یہ باندی کا واضح ضرر ہے ، یہی وجہ ہے کہ خیار عتق صرف باندی کو ہے غلام کو نہیں ہے ، اس لئے واضح ضرر کو دفع کر نے کے لئے قاضی کے فیصلے کی ضرورت نہیں ہے ، باندی اتنا کہہ دے کہ میں خیار عتق کے ما تحت اپنا نکاح فسخ کرتی ہوں تو نکاح فسخ ہو جائے گا ۔
وجہ : (١) حضور ۖ نے حضرت بریرہ کو فسخ نکاح سے روکنے کی کو شش کی تب بھی خود حضرت بریرہ نے اس کو فسخ کر دیا ۔ عن ابن عباس ان زوج بریرة کان عبدا یقال لہ مغیث کانی انظر الیہ یطوف خلفھا یبکی و دموعہ تسیل علی لحیتہ، فقال النبی ۖ لعباس یا عباس الا تعجب من حب مغیث بریرة و من بغض بریرة مغیثا ؟فقال النبی ۖ : لو راجعتہ؟ قالت یا رسول اللہ تأمرنی؟قال انما انا أشفع قالت فلا حاجة لی فیہ ۔ ( بخاری شریف ، باب شفاعة النبی ۖ فی زوج بریرة ، ص ٩٤٤، نمبر ٥٢٨٣) اس حدیث میں حضور وقت کے قاضی تھے اس کے با وجود انکے فیصلے کے بغیر حضرت بریرة نے بغیر قاضی کے اپنا نکاح توڑ دیا ۔
لغت : خیار عتق : باندی کے آزاد ہو نے کی وجہ سے نکاح توڑنے کا اختیار ملتا ہے اس کو خیار عتق کہتے ہیں ۔ ضرر جلی : واضح نقصان ۔یفتقر : محتاج ہو نا ، ضرورت پڑنا ۔
ترجمہ : ( ١٥٤٨) پھر طرفین کے نزدیک جب صغیرہ بالغ ہو جائے اور نکاح کو جانتی ہو اور چپ رہی تو یہ رضا شمار ہو گی ، اور نکاح نہیںجانتی ہو تو اس کو اختیار ہو گا یہاں تک کہ جان لے اور چپ رہے ۔