عسی والتدارک ممکن بخیار الادراک ٤ واطلاق الجواب فی غیر الاب والجد یتناول الام والقاضی وہو الصحیح من الرواےة لقصور الرای فی احد ہما ونقصان الشفقة فی الاٰخر فیتخیر٥ ویشترط فیہ القضاء بخلاف خیار العتق لان الفسخ ہنا لدفع ضرر خفی وہو تمکن الخلل ولہذا یشمل الذکر والانثیٰ فجعل الزاما فی حق الاٰخر فیفتقر الی القضاء
لئے مقاصد میں خلل داخل ہو نا ممکن ہے ، اور خیار بلوغ سے تدارک ممکن ہے ۔
تشریح : طرفین کی دلیل یہ ہے کہ باپ دادا کے علاوہ مثلا بھائی میں رشتہ داری ناقص ہے اس لئے ممکن ہے کہ شفقت بھی کم ہو اور نکاح کا جو مقصد ہے وہ پورا نہ ہو ، اس میں کمی رہ جائے ، اس لئے اسکی تلافی اسی طرح ممکن ہے کہ لڑکا ار لڑکی کو بالغ ہو نے کے بعد خیار بلوغ دیا جائے ، اور کفو ملنے میں کمی رہ جائے تو بالغ ہو نے کے بعد نکاح کو توڑ کر اس کمی کو پوری کی جائے ، اس لئے باپ اور دادا کے علاوہ میں خیار بلوغ ملنا چا ہئے ۔
ترجمہ : ٤ اور متن میں باپ اور دادا کے علاوہ میں جواب کومطلق رکھنا ماں اور قاضی کو شامل ہے اور صحیح روایت یہی ہے ، دو نوں میں سے ایک میں رائے کی کمی کی وجہ سے اور دوسرے میں شفقت کی کمی کی وجہ سے اس لئے خیار بلوغ دیا جائے گا ۔
تشریح : قدوری کے متن میں یہ کہا کہ باپ اور دادا کے علاوہ سب ولیوں میں لڑکا اور لڑکی کو بالغ ہو نے کے بعد نکاح توڑنے کا اختیار ملے گا اس اطلاق میں ماں اور قاضی بھی شامل ہے کہ انہوں نے بھی نکاح کرا یا تو خیار بلوغ ملے گا ۔ اس کی وجہ یہ کہ اختیار اس ولی میں نہیں ملتا ہے جس میں رائے بھی کامل ہو اور شفقت بھی کامل ہو ، اور ماں میں شفقت تو کامل ہے لیکن ہے اس کی رائے ناقص ہے اس لئے اس کے کرائے ہوئے نکاح کو توڑنے کا اختیار ملے گا ، اور قاضی میں رائے تو کامل ہے لیکن شفقت کامل نہیں ہے کیونکہ وہ رشتہ دار نہیں ہیں اس لئے ممکن ہے کہ نکاح کرانے میں کمی کی ہو اس لئے اس کے کرائے ہوئے نکاح کو بھی توڑنے کا اختیار ہو گا ۔
لغت: ۔ قصور الرای فی احدھما : اس سے ماں مراد ہے کیونکہ اس میں قصور الرای ہے ۔ نقصان الشفقة فی الآخر : اس سے قاضی مراد ہے ، اس لئے کہ اس میں شفقت کی کمی ہے ۔
ترجمہ : ٥ نکاح کے توڑنے میں قضا کی شرط ہے ، بخلاف خیار عتق کے ، اس لئے کہ خیار بلوغ میں فسخ خفی ضرر کو دور کرنے کے لئے ہے ، اور یہ ہے کہ ممکن ہے کہ خلل داخل ہو گیا ہو ، اسی لئے مذکر اور مؤنث دو نوں کو شامل ہے ]یعنی دو نوں کو خیار بلوغ ملتا ہے [اس لئے دوسرے کے حق میں الزام رکھنا ہوا ، اس لئے قضا کی ضرورت پڑے گی ۔
تشریح : خیار بلوغ کے تحت نکاح توڑنے کے لئے قاضی کے فیصلے کی ضرورت پڑے گی لڑکا یا لڑکی خود سے نکاح نہیں توڑ سکیں گے ، اس کے بر خلاف خیار عتق کے تحت نکاح توڑنے کے لئے قاضی کے فیصلے کی ضرورت نہیں ہے ، اس کو سمجھنے کے لئے یہ قاعدہ یاد