(١٥٤٦) فان زوجہما الاب او الجد ] یعنی الصغیر والصغیرة [ فلاخیار لہما بعد بلوغہما )
١ لانہما کاملا الرای وافرا الشفقة فیلزم العقد بمباشرتہما کما اذا باشراہ برضا ہما بعد البلوغ
وجہ : (١) اس اثر میں اس کا ثبوت ہے ۔قال عمر بن الخطاب اذا کان العصبة احدھم اقرب بام فھو احق(رواہ الامام محمد فی کتاب الحجج ص ٢٩٣اعلاء السنن، باب ان النکاح الی العصبات و ان المرأة تستحق ولایة الانکاح ، ج حادی عشر ، ص ٨٥،نمبر ٣١٤٢) اس اثر میں ہے کہ ماں سے زیادہ کوئی عصبہ ہو تو ماں محجوب ہو جائے گی ، یعنی اس کو نکاح کرانے کا حق نہیں ملے گا ۔(٢) اس حدیث میں بھی اس کا ثبوت ہے ۔عن عائشة قالت قال رسول اللہ ایما امرأة نکحت بغیر اذن موالیھا فنکاحھا باطل ثلاث مرات فان دخل بھا فالمھر لھا بما اصاب منھا فان تشاجروا فالسلطان ولی من لاولی لہ۔ (ابو داؤد شریف ، باب فی الولی ص ٢٩١ نمبر ٢٠٨٣) اس حدیث میں ہے کہ جس کا ولی نہ ہو تو اس کا ولی بادشاہ ہو گا ، اس حدیث کے اشارے سے معلوم ہو تا ہے کہ ولی میں ترتیب ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دور کا ولی قریب کے ولی سے محجوب ہو جائے گا ۔
ترجمہ : (١٥٤٦) پس اگر ان دونوں کی ] یعنی نا بالغ بچے کی اور نا بالغ بچی کی [شادی باپ اور دادا نے کرائی تو ان دونوں کو بلوغ کے بعد خیار نہیں ہوگا۔
ترجمہ : ١ اس لئے کہ یہ دو نوں رائے کے کامل ہیں اور شفقت بھی بہت ہے ، اس لئے دو نوں کے کرنے سے عقد لازم ہو جائے گا ، جیسا لہ بالغ ہو نے کے بعد دونوں کی رضامندی سے باپ دادا شادی کرواتے ]تو انکو نکاح توڑنے کا اختیار نہیں ہو تا ۔
تشریح : اگر چھوٹے نابالغ بچے یا بچی کی شادی باپ نے یا دادا نے کرادی تو بالغ ہونے کے بعد ان کو اس نکاح کے توڑنے کا خیار نہیں ہوگا۔اور ان کے علاوہ نے نکاح کرایا تو بالغ ہونے کے بعد توڑنے کا خیار بلوغ ملے گا۔
وجہ : (١) باپ کو بیٹے کے ساتھ شفقت کاملہ بھی ہے اور ان کے عاقل بالغ ہونے کی وجہ سے عقل بھی ہے ۔اس لئے مشفق اور عاقل نے نکاح کرایا اس لئے ان کو نکاح توڑنے کا حق نہیں ہوگا۔اور باپ نہ ہوتے وقت دادا بھی اسی درجے میں شمار ہوتے ہیں (٢) لڑکا اور لڑکی کے بالغ ہو نے کے بعد انکی رضامندی سے باپ یا دادا انکی شادی کراتے تو ان لو گوں کو اس نکاح کے توڑنے کا اختیار نہیں ہو گا ، اسی طرح انکی نا بالغی میں باپ دادا نے نکاح کرایا تو انکو نکاح توڑنے کا اختیار نہیں ہو گا ۔ (٣)۔اثر میں ہے۔ عن عطاء انہ اذا انکح الرجل ابنہ الصغیر فنکاحہ جائز ولا طلاق لہ ۔ (سنن للبیہقی ، باب الاب یزوج ابنہ الصغیر، ج سابع، ص ٢٣٢،نمبر١٣٨١٧ مصنف ابن ابی شیبة ١٢ فی رجل یزوج ابنہ وھو صغیر من اجازة ،ج ثالث ،ص ٤٤٩،نمبر١٦٠٠٩) اس اثر میں ہے کہ باپ نے نابالغ بیٹے کی شادی کرائی تو اس کو طلاق دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔یعنی خیار بلوغ نہیں ملے گا۔اور اسی میں دادا بھی داخل ہوگا۔