فیدار الحکم علی الصغر ١١ ثم الذی یؤید کلامنا فیما تقدم قولہ علیہ السلام النکاح الی العصبات من غیر فصل ١٢ والترتیب فی العصبات فی ولاےة النکاح کالترتیب فی الارث ١٣ و الا بعد محجوب بالاقرب
سے رائے پیدا نہیں ہو تی ، اس لئے صغر پر حکم لگا یا جائے گا ۔
تشریح : یہاں تین دلیل ذکر فر ما رہے ہیں ]١[ بعض مرتبہ بعد میں کفو نہیں ملتا اس لئے بچپنے میں بھی نکاح کرانے کی ضرورت ہے ]٢[ اور باپ دادا میں شفقت کا مل ہے اس لئے اس کو ولایت دی جا سکتی ہے ]٣[ اور تیسری بات یہ ہے کہ عورت جب تک بالغ نہ ہو شوہر کے پاس رہنے سے رائے اور عقل پیدا نہیں ہو تی اس لئے جب تک بچی ہے باپ اور دادا کو اس پر ولایت ہو گی ۔
اصول : امام ابو حنیفہ کا ا صول یہ ہے کہ ولایت کا مدار صغر ہے پس اگر وہ بالغہ ہے تو اس پر ولات نہیں ہے چا ہے وہ ثیبہ ہو یا باکرہ ، اور اگر نا بالغ ہے تو اس پر ولایت ہو گی چا ہے وہ باکرہ ہویا ثیبہ ۔
لغت : وفور الشفقة : وفور معنی بہت زیادہ ، وفور الشفقة : بہت محبت۔ممارسة : مارس ، ملنا ، بار بار مل کر تجربہ کر نا ۔
ترجمہ : ١١ پھر ہماری بات جو پہلے گزر چکی ہے اس کی تائید کرتی ہے حضور ۖ کی حدیث نکاح عصبات کی طرف ہے ، بغیر کسی فصل کے ۔
تشریح : حدیث میں یہ ہے کہ نکاح کر نے کا حق عصبات کو ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ باپ اور دادا کے علاوہ کو ہے یا سب کوہے اس لئے اس سے بات کی تائید ہو تی ہے کہ صغیرہ کے نکاح کرانے کا حق عصبات کو ہے ۔ ۔ یہ حدیث نہیں ملی ، البتہ اس کے قریب یہ اثر ہے ۔قال عمر بن الخطاب اذا کان العصبة احدھم اقرب بام فھو احق(رواہ الامام محمد فی کتاب الحجج ص ٢٩٣اعلاء السنن، باب ان النکاح الی العصباتو ان المرأة تستحق ولایة الانکاح ، ج حادی عشر ، ص ٨٥،نمبر ٣١٤٢)اس سے معلوم ہوا کہ کوئی عصبہ نہ ہو تو ماں نکاح کرانے کا حقدار ہے۔
ترجمہ : ١٢ اور ترتیب عصبات میں نکاح کی ولایت میں وہی ترتیب ہے جو وراثت میں ہے ۔
تشریح : عصبہ کو نکاح کرانے کا حق ہو تا ہے اور عصبات میں ترتیب وہی ہے جو وراثت میں ترتیب ہے ، یعنی پہلے باپ ، پھر دادا وغیرہ ۔ اس ترتیب کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے ۔
ترجمہ : ١٣ اور دور کا عصبہ قریب کے عصبہ سے محجوب ہو جائے گا ۔
تشریح : اگر قریب کا عصبہ مو جود ہو مثلا باپ مو جود ہو تو اس سے دور کا عصبہ مثلا دادا محجوب ہو جائے گا یعنی اس کو نکاح کرانے کاحق نہیں ملے گا ۔