Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

102 - 465
 ٩  وجہ قولہ فی المسألة الثانےة ان الثیابة سبب لحدوث الرای لوجود الممارسة فادرنا الحکم علیہا تیسیرا  ١٠  ولنا ماذکرنا من تحقق الحاجة ووفور الشفقة ولا ممارسة تحدث الرای بدون الشہودة 

مشکل کام ہے ، وہاں تو یہی کیا جائے کہ ولی نے جو خرید و فروخت کیا اس کو ابھی نافذ کیا جائے ، اور ان ولیوں میں شفقت اور محبت کمی ہے اس لئے مال میں ولایت ملزمہ رکھنا مشکل ہے ، اس لئے یہی کہا جائے کہ ان لو گوں کو مال میں تصرف کر نے کا حق ہی نہ ہو ، اور نکاح زندگی میںایک مرتبہ پیش آتا ہے اس لئے لڑکی کے بالغ ہو نے تک انتظار کیا جا سکتا ہے اس لئے یہاں ولایت غیر ملزمہ دیا جا سکتا ہے اس لئے دے دیا ، اور ولایت مال اور ولایت نکاح میں فرق کردیا گیا ۔ 
ترجمہ : ٩  دوسرے مسئلے میں امام شافعی  کے قول کی وجہ یہ ہے کہ ثیبہ ہو نا رائے پیدا ہو نے کا سبب ہے ملنے کی وجہ سے اس لئے ہم نے آسانی کی وجہ سے اس پر حکم لا گو کیا ۔ 
تشریح :   ثیبہ کے بارے میں امام شافعی  کا مسلک یہ تھا کہ ثیبہ بالغ ہو یا نا بالغ ولی کی اس پر ولایت نہیں ہے ، اور اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ شوہر کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اس میں تجربہ پیدا ہو گیا ہے اور رائے بھی پیدا ہو گئی ہے اس لئے چاہے وہ نا بالغ ہو تب بھی اس پر ولایت نہیں ہے ۔موسوعة میں عبارت یہ ہے ۔قال الشافعی  فأی ولی امرأة ثیب او بکر زوجھا بغیر اذنھا فالنکاح باطل الا الاباء فی الابکار و السادة فی الممالیک ۔( موسوعة امام شافعی  باب ما جاء فی نکاح الاباء ، ج عاشر ، ص ٥٩،نمبر ١٥٤٠٠) اس عبارت میں ہے کہ ثیبہ عورت پر  باپ کی بھی ولایت نہیں ہے ۔ 
وجہ :   اس لئے کہ ثیبہ کا نکاح اس کے باپ نے کروایا تو حضور ۖ نے اس کو رد کر دیا ، حدیث یہ ہے   عن خنساء بنت خدام الانصاریة أن ابا ھا زوجھا و ھی ثیب فکرہت ذالک فأتت رسول اللہ ۖ فرد نکاحہ۔ ( بخاری شریف ، باب اذا زوج الرجل ابنتہ و ھی کارھة فنکاحہ مردود ، ص ٩١٩، نمبر ٥١٣٨) اوپر کی حدیث میں ثیب کو خود نکاح کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔اور ثیب میں بالغہ اور نا بالغہ دونوں داخل ہیں اس لئے دونوں کا نکاح نہیں کرا سکتا (٢) دوسری حدیث میں ہے ۔ عن ابن عباس ان رسول اللہ قال لیس للولی مع الثیب امروالیتیمة تستامر وصمتھا اقرارھا ۔ (ابو داؤد شریف ، باب فی الثیب، ص ٢٥٣ ، نمبر ٢١٠٠ دار قطنی ، کتاب النکاح، ص ١٦٧ ،نمبر ٣٥٣٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ثیبہ چاہے نابالغہ ہو ولی کو مجبور کرنے کا حق نہیں ہے۔
اصول :  امام شافعی کا ا صول یہ ہے کہ ولایت کا مدارشوہر کے ساتھ رہنا ہے ، پس اگر عورت شوہر کے ساتھ رہ چکی ہے اور ثیبہ ہے تو اس پر ولات نہیں ہے چا ہے وہ بالغہ ہو یا نا بالغہ ، اور نہیں رہی ہے اور باکرہ ہے تو اس پر ولایت ہو گی چا ہے وہ بالغہ ہو یا نا بالغہ ۔   
ترجمہ :  ١٠  ہماری دلیل وہ ہے جو ذکر کیا کہ ضرورت متحقق ہے اور باپ دادا میں شفقت کامل ہے اور بغیر شہوت کے ملنے کی وجہ 

Flag Counter