Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

101 - 465
لقصور شفقتہ وبعد قرابتہ ولہذا لایملک التصرف فی المال مع انہ ادنی رتبةً فلان لایملک التصرف فی النفس وانہ اعلی اولیٰ ٧ ولنا ان القرابة داعےة الی النظر کما فی الاب والجد وما فیہ من القصور اظہرناہ فی سلب ولاےة الالزام ٨ بخلاف التصرف فی المال لانہ یتکرر فلایمکن تدارک الخلل فلا تفید الولاےة الا ملزمة ومع القصور لایثبت ولاےة الا لزام 

تصرف کر نے کا مالک نہیں ہو گا اس لئے کہ وہ اعلی رتبہ ہے ۔ 
تشریح :  یہ امام شافعی کی دلیل عقلی ہے کہ ۔ ولایت کا مدار شفقت پر ہے اور اس بات پر ہے کہ وہ لڑکی کی مصلحت دیکھ سکے اور باپ اور دادا کے علاوہ کسی کو اتنی شفقت نہیں ہو تی کیونکہ وہ رشتہ داری کے اعتبار سے دور ہو تے ہیںاس لئے اس کو ولایت سونپنا مصلحت کے خلاف ہے ، یہی وجہ ہے کہ باپ اور دادا کے علاوہ کو مال میں تصرف کر نے کا حق نہیںہو تا ،پس مال جو ادنی درجہ ہے اس کو تصرف کر نے کی ولایت نہیں ہو تی تو نکاح جو زندگی بھر کا مسئلہ ہے اس کو تصرف کر نے کی ولایت کیسے دی جائے ! 
ترجمہ : ٧  ہماری دلیل یہ ہے کہ قرابت کا تقاضا ہے کہ مصلحت اختیار کرے  جیسے باپ اور دادا میں ہے ، اور جو شفقت کی کمی ہے اس کو ہم نے اس کو الزام کے سلب کر نے میں ظاہر کیا ہے ۔ 
تشریح :  ہماری دلیل یہ ہے کہ باپ اور دادا کے علاوہ جتنے ولی ہیں انکے ساتھ لڑکی کی رشتہ داری ہے اور رشتہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مصلحت کی رعایت کر کے نکاح کرے ، جیسے باپ اور دادا  کے بارے میں یہی سمجھا جا تا ہے کہ مصلحت کی رعایت کر کے لڑکی کی شادی کریں گے ، باقی رہا کہ وہ دور کے رشتہ دار ہیں اس لئے ان میں شفقت کی کمی رہے گی تو اس کا علاج یہ ہے کہ ان لو گوں کا نکاح لازم نہیں رہے گا ، بالغ ہو نے کے بعد خیار بلوغ ملے گا اور اسکی وجہ سے نکاح توڑنے کا اختیار ہو گا ۔
لغت:  داعیة : بلانا ، یہاں مراد ہے اس کا تقاضا یہ ہے ۔ النظر : مصلحت ، کسی بات میں غور کر نا ۔ولایة الزام : نکاح کر نے کے بعد اس کو توڑنے کا اختیار نہ ہو تو اس کو ولایة الزام ، یا ولایة اجبار کہتے ہیں ، اوربالغ ہو نے کے بعد توڑنے کا اختیار ہو تو اس کو ولایت اختیار کہتے ہیں ۔ باپ اور دادا میں ولایة الزام ہے باقی ولیوں میںولایة الزام نہیں ہے، ولایت اختیار ہے ۔   
ترجمہ : ٨   بخلاف مال میں تصرف کر نے کے اس لئے کہ وہ بار بار ہو تا ہے اس لئے خلل کا تدارک ممکن نہیں ہے ، اس لئے ولایت ملزمہ کے علاوہ میں فائدہ نہیں ہے اور قصور کے ساتھ ولایت ملزمہ ثابت نہیں ہو تا ۔ 
تشریح :  یہ امام شافعی  کو جواب ہے ،انہوں نے کہا تھا کہ دوسرے ولیوں کو مال میں تصرف کر نے کی اجازت نہیں ہے تو نفس یعنی نکاح میں بھی ولایت نہیں دی جائے ، اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ مال کا معاملہ یہ ہے کہ وہ بار بار پیش آئے گا اس لئے بالغ ہو نے تک مو قوف رکھنا کہ یہ لڑکی بالغ ہو گی تب مال کے اس عقد کو توڑنے اور باقی رکھنے کا اختیار ہو یہ نا ممکن بات ہے اور اتنی دیر تک رکنا 

Flag Counter