Deobandi Books

اغلاط العوام - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

16 - 57
ہے، سو ىہ محض بے اصل بات ہے، بلکہ اگر شوہر بھى بىوى کو ماں ىا بىٹى کہہ دے تو بھى نکاح مىں فرق نہىں آتا، لىکن ىہ بات بىہودہ اور لغو ہے، اگر ىوں کہا ہے کہ تو مجھ پر مثل ماں بىٹى کے ہے تو اس مىں بعض صورتوں مىں عورت حرام ہو جاتى ہے جس کى تفصىل ضرورت کے وقت علمائے دىن سے معلوم ہوسکتى ہے۔
مسئلہ:۔ بعض عوام کو اس مىں شبہ رہتا ہے کہ حالت حىض مىں نکاح شاىد درست نہىں ہوتا۔ سو ىہ شبہ بے اصل ہے اس حالت مىں نکاح درست ہے البتہ ناف سے زانو تک اس حالت مىں دىکھا ہاتھ وغىرہ لگانا درست نہىں۔
مسئلہ:۔ عوام الناس ممانى اور چچى اور سوتىلى ساس سے نکاح کرنے کو جائز نہىں سمجھتے۔ سو ىہ اعتقاد باطل ہے ۔ اور ىوں کوئى لحاظ کى وجہ سے ان رشتوں سے نکاح نہ کرے وہ اور بات ہے۔
مسئلہ:۔ بعض سے مہر کے بارے مىں سنا ہے کہ اِذَا ثُنِّىَ ثُلِّثَ ىعنى اگر کسى ضرورت سے مہر دوسرى بار لگانا پڑے تو تىسرى بار بھى ضرور لگاوے ، سو اس کى کچھ اصل نہىں۔
مسئلہ:۔ بعض عوام سمجھتے ہىں کہ غصہ مىں ىا دھمکانے کى نىت سے اگر طلاق دے دے تو طلاق نہىں پڑتى۔ سو ىہ بالکل غلط ہے۔

Flag Counter