ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2013 |
¾اكستان Ù |
|
اِسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو حضور علیہ السلام کے سفر و حضر کے ساتھی تھے جن کے بارے میں حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا '' اِبن ِاُم ِعبد (یعنی عبداللہ بن مسعود) تمہارے لیے جس چیز پر راضی ہوں اِس پر میں بھی راضی ہوں'' یہ بھی نماز میں تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ کسی اَور مقام پر رفع ِیدین نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضورِ اَکرم ۖ کی وفات کے بعد صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر فرمایا اَلَا اُصَلِّیْ بِکُمْ صَلٰوةَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۖ کیا میں تمہیں حضور علیہ الصلوة والسلام جیسی نماز پڑھ کر نہ دِکھاؤں ؟ فَصَلّٰی فَلَمْ یَرْفَعْ یَدَیْہِ اِلَّا فِیْ اَوَّلِ مَرَّةٍ چنانچہ آپ نے نماز پڑھی اَور پہلی مرتبہ (تکبیرِ تحریمہ کے وقت) رفع ِ یدین کرنے کے علاوہ کسی اَور جگہ رفع ِ یدین نہیں کیا۔(ترمذی شریف ج ١ ص ٥٩) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ عمل بھی صاف بتلا رہا ہے کہ تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ دیگر مقامات پر کیا جانے والا رفع ِیدین باقی نہیں رہا،اِسی لیے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ کسی اَور مقام پر رفع ِیدین نہیں کرتے تھے اَور حضور علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ '' اِبن ِاُم ِعبد تمہارے لیے جس چیز پر راضی ہوں اِس پر میں بھی راضی ہوں'' اِس کو اگر سامنے رکھا جائے تو پھر صرف تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفع ِیدین کرنے پر ہی آپ کی رضا معلوم ہوتی ہے ،اَلحمد للہ اَحناف اِسی پر عمل پیرا ہیں۔