ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
وقت ہوگا جب اَمیراُن کو بقدر ِضرورت بیت المال میں سے دے گا۔ بیت المال میں ہوتے ہوئے فقراء اُس میں کچھ تصرف نہیں کر سکتے)۔ اِس (مہتمم) کے قبضہ سے مِلک معطی (یعنی زکوة دینے والے کی ملکیت) سے نکلا اَور مِلک طلبہ کا ہوگیا (یعنی مہتمم کے قبضہ کرنے سے دینے والوں کی زکوة اَدا ہو گئی اَور (موجودہ اَور آئندہ سالوں میں آنے والے) طلبہ کامعنوی قبضہ ثابت ہو گیا۔اگر چہ وہ مجہول الکمیت والذوات ہوں (یعنی نہ صرف موجود طلبہ بلکہ آئندہ سالوں میںآنے والے طلبہ بھی اِس میں حقدار ہوں گے اگرچہ ابھی نہ اُن کی تعداد معلوم ہے نہ ہی یہ معلوم ہے کہ وہ کون ہیں مگر (اُن کا )نائب معلوم ہے ۔حسی قبضہ اُس وقت ہوگا جب مہتمم مدرسے کے فنڈ میں سے نکال کر مستحق طلبہ کو بقدرِ ضرورت دے گا ۔ حسی قبضہ سے پہلے طلبہ اِس میں کچھ تصرف نہیں کر سکتے۔ '' اَور اگر حیلہ تملیک کی ضرورت مان بھی لیں تو اِس حیلہ سے زکوة دینے والوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا سوائے اِس کے کہ اُن کی زکوة اَدا ہو جاتی ہے۔ (٣) کفایت المفتی میں ہے کہ مسلمانوں کو بلا سود قرضہ دینے کے لیے ایک کمیٹی ہے جو ایک کاغذ تیار کرتی ہے جس کی قیمت قرض کے اِعتبار سے مختلف ہوگی مثلًا دس ہزار کے لیے سو روپے اَور بیس ہزار کے لیے دو سو روپے وغیرہ جس طرح سرکاری اسٹامپ کاغذ ...........جو شخص اِس کمیٹی سے یہ کاغذ خریدے گا اُس کو یہ کمیٹی اُس کی طلب پر قرض دے گی۔ یہ کمیٹی اپنا ایک رجسٹرار مقرر کرتی ہے جس کے ہاں اِس وثیقہ کی رجسٹری ہوگی اَور رجسٹری کرانے کی ایک قلیل رقم مقروض کو رجسٹرار کے ہاں داخل کرنی ہوگی تاکہ رجسٹرار کے دفترکا خرچ اِس سے چل سکے۔ اِس صورت میں کاغذ کی فروخت ایک حیلہ ہے پیسے کمانے کا لیکن بہت سے حضرات نے اِس کی تائید و تصویب کی ہے۔ اِس کا جواب وہ ہے جو مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ نے دیا : ''اِس کمیٹی کا سرمایہ غالبًا چندہ سے حاصل کیا جائے گا پس اس کے کاغذوں کی قیمت