ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2008 |
¾اكستان Ù |
|
گرامی ہے ۔نقشبندیہ کا ایک سلسلہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے مگر اُس میں انقطاع بہت زیادہ ہے اتصال والا طریقہ اُن کا بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ' کا دریوزہ گر ہے، بنائً علیہ اِس حدیث کو اِسی پر محمول کرنا لازم ہے کہ علم باطن اور تصوف میں داخل ہونے کے لیے پسماندگان اور بعد آنے والوں کے لیے صرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ' وسیلہ ہیں۔ صراط مستقیم میں حضرت سید احمد صاحب شہید رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں(ص٥٨) وحضرت مرتضٰی یک نوع (جس کامیں ترجمہ کیے دیتا ہوں )کہ حضرت مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ایک قسم کی فضیلت حضرات شیخین پر بھی ثابت ہے اور وہ تفضیل یہ ہے کہ اُن کے پیروکاروںمیں محبت بکثرت ہے، اور مقاماتِ ولایت بلکہ تمام خدمات کی وساطت ثابت ہے جسیے قطبیت، غوثیت اور ابدالیت وغیرہ کہ یہ سب حضرت مرتضٰی کے زمانہ باکرامت سے دُنیا کے ختم ہونے تک سب ہی آپ کی وساطت سے ہے ، اور بادشاہوں کی بادشاہت اور اُمراء (حکام )کی اَمارت میں بھی اِن کی ہمت کو بڑا دخل ہے ،جو کہ عالم ملکوت کے سیاحوں پر مخفی نہیں ''الخ اِسی قسم کی تفصیل حضرت مجدد رحمة اللہ علیہ اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمة اللہ علیہ کی تصنیفات میں بھی بکثرت موجود ہے۔ بہرحال مراد اِس جگہ پر عموم نہیں ہو سکتا ،نہ تو قواعد اِس کے حامی ہیں نہ واقعات ۔ واللہ اعلم '' (مکتوبات شیخ الاسلام ص١٨٢ ج١) یہ عبارت صراطِ مستقیم میں حضرت سید صاحب کے ملفوظات میں بقلم مولانا اسمٰعیل شہید رحمةاللہ علیہما آگئی ہے۔ مولانا اسمٰعیل شہید تو اور بھی آگے بڑھ گئے، اَب آپ کیا کریں گے،ایک جگہ فرمایا ہے کہ اِقْتَدَوْا بِاالَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِیْ کی روایت کی وجہ سے اِس روایت مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ کا اِن حضرت کے علوم سے تعارض نہیں ہوتا۔ آپ نے اِس دفعہ پھر حضرت شاہ ولی اللہ کے نام سے ایک عبارت لکھ دی ہے نمبر ٦میں مگر آپ نے میرے طلب کرنے کے باوجود اِس دفعہ بھی قرة العینین کے صفحہ کا حوالہ نہیںدیا حالانہ اُس میں اُنہوں نے