ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2004 |
اكستان |
|
میں فیصلہ دیا ہے مگر بعض قانونی مجبوریوں کی بناء پر مجھے مقدمہ سے بری نہیں کرسکے ۔کیونکہ ایک اور مجرم نے جوکہ میرا عزیز ہی ہے ۔بدقسمتی سے حکومت کے وکیل کے کہنے پر اقرارِ جرم کرلیا تھا۔اس لیے مجھے کچھ نہ کچھ سزا دینی پڑی ۔میرے بیٹے اورمیری بیوی کے بھتیجے کو چھوڑ دیا ہے۔باقی تمام لوگ چھوڑدیے گئے ہیں ۔میرے متعلق بھی سفارش کی ہے کہ ان کی سزا بہت کم ہونی چاہیے یا مکمل چھوڑدینا چاہیے۔اب قریباً قریباً سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ میں نے خود بھی حکومت کو لکھاہے کہ چونکہ میرے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوسکا اور میں محض اسلام کے نام پر ایک جدوجہد کررہاتھا۔جوکہ میرا ایک اسلامی فریضہ تھا ۔اس لیے آپ کو کوئی حق نہیں کہ مجھے سزادیں ۔اور اگر آپ نے مجھے سزادی تو یہ سراسر بے انصافی ہوگی ۔ عدالت نے بھی میرے حق میں بہت اچھے الفاظ استعمال کیے ہیں کہ جنرل تجمل جو کچھ کررہے تھے ایک اسلامی تحریک کے فروغ کے لیے کررہے تھے ۔اسے بغاوت قرارنہیںدینا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ آپ سے عرض ہے کہ آپ میرے بھائی انوارالحق کے ہمراہ محمود میاں کو بھیجیں تاکہ مفتی صاحب سے کہا جائے کہ وہ جنرل ضیاء الحق پر زور دیں کہ جنرل تجمل اسلام کے لیے کام کررہے تھے ۔انہیں کیوں سزا دیتے ہو۔ اوریہ تو قومی سطح پرایک انقلاب لانا چاہتے تھے نہ کہ فوجی انقلاب۔ اور یہ کام بس ہفتہ دس دن کے اندر ہونا چاہیے کیونکہ اس کے اندرفیصلہ ہونا ہے۔باقی تفصیل زبانی بتائو نگا ۔اگر ہوسکے تو پیر پگاڑا صاحب سے بھی کہلوادیں بہرحال مجھے اُمّید ہے کہ آپ میری ہر ممکن مدد کریںگے۔ فقط والسلام ٭٧٨٦میجر جنرل ریٹائرڈ تجمل حسین٨١۔٣۔١٥ محترمی ومکرمی جناب شاہ صاحب السلام علیکم ۔کافی عرصہ سے آپ کی خدمت میں کوئی خط ارسال نہیں کیا۔ اُمّیدیہی تھی کہ شاید کوہ مری سے سیدھا گھر آجائوں اورپھر حاضرِخدمت ہوکر شرفِ ملاقات حاصل کروں لیکن حکومت