ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2004 |
اكستان |
|
any of the purpose of the company by receiving advances or any sum or sums of money with or without security upon such terms as the directors may deem expedient....... To issue or guarantee the issue of or the payment of interest on the shares,debentures,debenture stock or other security or obligation of this company." ''کمپنی کے ڈائرکٹروں کو اختیار ہوگا کہ کمپنی کے مفاد کی خاطر وقتاً فوقتاً ضرورت کے بقدر رقم قرض لے سکتے ہیں۔اس کے لیے وہ پیشگی رقوم بھی لے سکتے ہیں اور ضمانت کے ساتھ یا بلاضمانت ان شرائط پر بھی قرض لے سکتے ہیں جو وہ مناسب سمجھیں ۔ وہ حصص پر ،ڈیبنچرپر، ڈیبنچر سٹاک پر یا امانت پر یا کمپنی کی کسی اور واجب الادا رقم پر سود دے سکتے ہیں ۔'' اس شرط فاسدکا بیان یہ ہے کہ ڈائر کٹر جب کوئی قرض لیتے ہیں تووہ اپنے نام پر نہیں لیتے بلکہ کمپنی کے نام پرلیتے ہیں اور اس کی واپسی اور اس پر سود کی ادائیگی کی ذمہ دار کمپنی ہوتی ہے لہٰذا وہ قرض کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے والے تمام افرد پر (خواہ وہ عہدیدار ہوں یا عام حصہ دار ہوں سب پر )ان کے سرمایہ کے تناسب سے تقسیم ہو جاتاہے۔ اگر کمپنی کو نقصان ہو تو قرضہ کی واپسی اور سود کی اد ائیگی شیئر ہولڈرز یعنی حصہ داروں کے اصل سرمایہ میں سے کی جائے گی۔ غرض فساد تو حصہ کے خریدنے کے وقت ہی آجاتا ہے ۔ ہماری تجویز اور رائے کے برعکس مولوی عمران اشرف صاحب کمپنی کے کام کی حقیقت کو''شرکت ِعنان'' کہتے ہیں البتہ یہ بھی مانتے ہیں کہ کمپنی کے عہدیداراُجرت پر کام کرتے میں اور کسی شریک کے اُجرت پر کام کرنے کے جواز کو مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ نے احسن الفتا وٰی کی ساتویں جلد میں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ کمپنی کے ڈائرکٹروں اور عہدیداروں کے اجارہ پرکام کرنے کو مان لینے کے بعد مولانا تقی عثمانی مدظلہ اور مولوی عمران اشرف سلمہ نے ہمارے ذکر کردہ مفاسد میں سے ایک سے یعنی ڈائرکٹروں کی تنخواہ کی مقدار کے مجہول ہونے سے تعرض ہی نہیں کیا البتہ انہوں نے دوسرے مفسدہ یعنی ڈائرکٹروں کے سودی لین دین پر تفصیل سے کلام کیاہے ۔اس کو ہم