ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
اكستان |
|
احمقانہ
انداز میں دور کی کوڑیاں لائے ۔آپ کو ہمیشہ شرمندگی اُٹھانی پڑی۔ آپ کے کردار کی ایک اہم بات آپ کی ہر پیش گوئی کی تکمیل کے لیے بے شرمی پر مبنی اصرار تھا ۔انصاف کے کسی بھی معیار پر یہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ منجم آپ سے بہتر پیش گوئیاں کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے اکثر قیاسیات صحیح ثابت ہوئے ہیں ۔مرزا صاحب کی نبوت کا سب سے بڑا مواد آپ کی پیش گوئیاں ہیں جو زیادہ ترآپ کے معاشی مفاد یعنی منی آڈروں کی وصولی ، چند وں اور تحائف کا حصول اور آپ کے دشمنوں کی ذلت اور موت اورمقدمے بازی میں آپ کی کامیابی پر منتج ہوتی تھیں ۔ ١
دلچسپ پیش گوئیوں میں ایک آپ کی محمدی بیگم سیشادی کی شدید تمنا ہے جوکہ آپ کے قریبی رشتے دار وں میں ایک پرکشش اور خوب صورت لڑکی تھی یہ پیش گو ئی کی کہ وہ بہر حال آپ کی دلہن بنے گی، مگر ایسا نہ ہو سکا۔آپ نے اپنی پیش گوئیوں میں اسے آسمانی دلہن قرار دیا ۔خوف ،تحریص اور دبائو کے ہر حربے کے باوجود اس لڑکی کے والد نے مرزا صاحب کی خواہشات کے آگے سر تسلیم خم نہ کیا ۔ اس فسانہ رسوائی نے ہندو اور عیسائی مخالفین کو ہمارے نبی اکرم ۖ کی حیات طیبہ پر بڑی ہوشیاری سے کیچڑ اچھالنے کا موقع فراہم کردیا ۔ کیونکہ مرزا صاحب بھی اپنے آپ کو اسلام کا علمبردار اور ہمارے حضور ۖ کے ظلی نبی ہونے کا دعویدار تھا ۔ مرزا صاحب کی زندگی کے دوران میں ہی محمدی بیگم کی شادی مرزا سلطان محمود سے ہو گئی اور نہ تو مرزا سلطان محمود نے مرزا صاحب کے الہامات کے مطابق وفات پائی اور نہ ہی محمدی بیگم بیوہ ہو کر آپ کے نکاح میںآئی۔ (جاری ہے )
صفحہ نمبر 73 کی عبارت
فاضل دیوبند اورحضرت اقدس بانی جامعہ کے ہم سبق حضرت مولانا احمدحسن صاحب پشاوری مد ظلہم کی اہلیہ محترمہ لاہور میں ماہ جون کے آخر میں وفات پا گئیں انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ بہت نیک دل خاتون تھیں، اللہ تعالی مرحومہ کی مغفرت فرماکر آخرت کے بلند ترین درجات عطا فرمائے۔ آمین۔