ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
¾اكستان Ù |
|
عالم اسلام کی مذمت میں بہت کچھ لکھا اور انہیں وحی کی تائید عطا کی ۔)آپ اپنے آپ کو ان حدوں تک لے گئے کہ ایک برطانوی جاسوس کے طور پر خدمات سرانجام دینے پر تیار تھے ۔برطانوی حکومت کو اپنی سیاسی خدمات پیش کرتے وقت آپ ہندوستان کے ان علما ء کے نام معلوم کرنے پر اُتر آئے جو برطانوی ہند کو دارالحرب قراردیتے تھے یا جہاد کو ایک ناگزیر ضرورت سمجھتے تھے ۔وہ اسلامی شریعت کی رو سے دارالحرب میں نماز جمعہ کی بجائے نماز ظہر ادا کرنے کے حامی تھے۔ برطانیہ کے ان دشمنوں کو بے نقاب کرنے کے لیے مرزا صاحب نے یکم جنوری ١٨٩٨ ء کو وائسرائے کو ایک میموریل روانہ کیا جس میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ جمعہ کو چھٹی کا دن قرار دیا جائے اور اس تجویز کی تائید کے لیے تمام سرکردہ مسلمان علماء کے پاس بھجوایا جائے ۔اس کے حاشیے میں آپ نے یہ واضح کر دیا کہ جو اس کی توثیق نہیں کرے گا وہ اپنے آ پ کو حکومت کا مخالف اور انگریز کا دشمن ثابت کرے گا ١ جاسوس پیغمبر نے گورنر جنرل ہند کو ایک درخواست بھیجی جس میں یہ پیش کش کی کہ وہ ''خدا کی طرف سے بھیجی گئی برطانوی حکومت ''کے بد خواہوں کو بے نقاب کرے گا اور بڑے خلوص سے التجاء کی کہ علماء کی طرف سے خطبہ جمعہ مں برطانوی راج کی برکات کا تذکرہ کیا جائے ۔یہ بھی خواہش کی گئی کہ اگر گورنمنٹ چاہے تو وہ قادیانی خفیہ ذرائع سے تیار کی گئی بر طانیہ مخالف بیو قوف علمائے ہند کی فہرست بھی حکومت کو پیش کر سکتے ہیں ۔ دانا حکومت اسے ایک حکومتی راز کے طورپر سنبھال کر رکھے تاکہ اس پر مستقبل میں عملدرآمد کیا جا سکے ۔آپ نے نمونہ تحریر کا ایک خاکہ اس کے ساتھ منسلک کیا جس میں نام ، جگہ اور کیفیت وغیرہ کے خانے بنے ہوئے تھے تاکہ برطانیہ مخالف علماء ہند کے ناموں کااندراج کیا جاسکے ۔ ٢ اس جاسوسی کے علاوہ آپنے بڑے شاطرانہ انداز میں علماء کو غیر ضروری مذہبی مباحث میںالجھائے رکھا۔آپ نے ان کے خلاف بڑی غلیظ اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی اور ان کی کردار کشی کرتے رہے ۔ان جہادی علماء کے خلاف جو ہندوستان میں برطانوی سامراجیت کے خلاف بر سر پیکار تھے ۔ان کے خلاف جنگ چھڑنے کے بعد آپ نے ہند و اور عیسائی مذاہب کے ساتھ مباحثے شروع کر دئیے تاکہ برطانوی حکمت عملی ''لڑائو اور حکومت کرو '' کی محافظت میں فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کو ہوا دی جاسکے ۔ہر مذہب کے لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اپنے تحفظ اور بقاء اور اپنے نظریات کی تشہیر کے لیے حکومت کا مکمل ساتھ دے ۔ علماء کومذہبی مباحث میں عیاری کے ساتھ الجھانے کے بعد آپ ان کے حملہ کا نشانہ برطانوی سامراجیت سے ہٹا کر ارتداد ِاحمدیت پر منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔آپ نے اپنے مخالفین کے لیے موت اور ذلت کی پیش گوئیاں کیں اور جب آپ کی پیش گوئیاں غلط ثابت ہو گئیں تو وہ اپنے بیانات کی تشریح میں 1. Mir Qasim Ali Qadian ,Tabligh-e-Risalat ,vol v,Qadian,1922 p.6