قرب الہی کا اعلی مقام |
§ہم نوٹ : |
|
لکھتے ہیں کہ گرمیوں کے موسم میں لاش چوبیس گھنٹے کے بعد اور سردیوں کے موسم میں بہتّر گھنٹے کے بعد پھول کر پھٹ جاتی ہے، تین دن کے بعد سارا افسانہ ختم ہوگیا۔ لہٰذا اللہ والوں کو ایسے عارضی حسینوں کے حسن سے ان کے مرنے سے پہلے ہی نفرت ہوتی ہے۔ نفسانی محبت کا انجام نفرت ہے اب میں آپ کو ایک بات اور بتاتا ہوں، مشایخ کاملین نے لکھا ہے، حاجی امداداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی لکھا ہے اور مولانا رومی نے بھی اس کی تائید فرمائی ہے کہ دنیاوی محبت، نفسانی محبت کا انجام نفرت ہے۔اس پر سارے مشایخ کا اجماع ہے ،یہ کوئی اختلافی مسئلہ نہیں ہے،تمام مشایخ کاملین اور علمائے ربانیین کا اجماع ہے کہ جو کسی سے نفس کے لیے محبت کرتا ہے، دنیاوی غرض کے لیے محبت کرتا ہے چاہے مال حاصل کرنے کےلیے، چاہے جاہ حاصل کرنے کےلیے، چاہے حسینوں سے آنکھوں کو خراب کرنے کے لیے، کچھ دن کے بعد جب غرض ختم محبت ختم، بلکہ محبت نفرت سے تبدیل ہوجاتی ہے۔ وہ تو بے چارہ دھوکے میں تھا کہ یہ میرا مخلص ہے لیکن تھا وہ مال کا عاشق، جب صراحی سے پانی ختم ہوگیا تو گلاس لے کر بھاگ گیا ؎بوقت تنگ دستی آشنا بے گانہ می گرددصراحی چوں شود خالی جدا پیمانہ می گردد تنگ دستی میں، مشکل گھڑی میں اپنے بیگانے ہوگئے، صراحی خالی ہوگئی تو پیمانہ جدا ہوگیا۔ یعنی گلاس وہاں سے بھاگ نکلا، صراحی سمجھتی تھی کہ یہ گلاس میری ذات سےمحبت رکھتا ہے، لیکن معلوم ہوا اس کو پانی سے تعلق تھا۔ تو مال والی محبت کا انجام یہ ہوا کہ مال ختم ہوا، آدمی غریب ہوا تو عاشق لوگ بھاگ نکلے کیوں کہ اس کے چائے پانی، حلوہ پراٹھے کے عاشق تھے۔ ایسے ہی کوئی حسینوں کے رنگ و روپ پر عاشق ہوا، جب رنگ بدل گیا تو وہاں سے بھاگ گئے۔ حاجی امداد اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ جو محبت اللہ کے لیے نہیں ہوتی، دنیا کے لیے ہوتی ہے، اس محبت کا انجام نفرت ہے، نفرت ہے، نفرت ہے۔ ایک دن نہ تم اس کو دیکھو گے نہ وہ تمہیں دیکھے گا،وہ تم سے بھاگے گا، تم اس سے بھاگو گے۔