قرب الہی کا اعلی مقام |
§ہم نوٹ : |
|
انکشاف ہوا،آپ کو اچانک اپنے مقام کی اتنی بلندی نظر آئی کہ آپ پر خوف طاری ہوگیا۔اس کو حاجی امداد اللہ صاحب ایک مثال سے سمجھاتے ہیں کہ بکری چرانے والا ایک چرواہا شیر کے بچےکو پکڑ کر لے آیا اور بکری کے بچوں میں شیر کا بچہ چھوڑ دیا۔ اب شیر سمجھ رہا ہے کہ میں بھی بکری ہوں، ایک دن جب پانی پینے دریا میں گیا اور دریا کے پانی میں اپنی شکل دیکھی پھر بکریوں کا منہ دیکھا تو اس نے کہا کہ ارے میں تو کچھ اور ہوں،آئینۂ آب میں شیر کی شیریت اس پر منکشف ہوگئی پھر جو اس نے دھاڑ ماری تو بکریوں کے کلیجے دہل گئے۔ تو آئینۂ جبرئیل کے آتے ہی،اپنے ہم جنس کے پاس آتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی معرفت کا انتہائی بلند مقام منکشف ہوا۔ ورنہ اس سے تو یہ لازم آتا کہ نعوذ باللہ! حضرت جبرئیل علیہ السلام سے آپ کا درجہ کم تھا اس لیے آپ پر خوف طاری ہوگیا، حالاں کہ یہ بات نہیں ہے، اپنا ہم جنس پاکر خود آپ پر اپنے کمالات منکشف ہوگئے۔ اللہ اکبر!اہل اللہ کے کیا عمدہ جوابات ہوتے ہیں۔ گھر والوں کی اصلاح کا نسخہ آج کل ہمارے یہاں دو اجتماعات ہورہے ہیں، ایک تو جمعہ کے دن ہوتا ہے جس میں میں تقریر کرتا ہوں اور اپنے بزرگوں سے جو باتیں سنی ہیں وہ سناتا ہوں، اور کبھی مضمون کی آمد نہیں ہوتی تو کتاب بھی پڑھ دیتا ہوں لیکن منگل کے دن عصر سے مغرب کی مجلس کا وقت رکھا ہے، اس میں صرف حکیم الامت کی کتابیں مثلاً حیاۃ المسلمین، تعلیم الدین، بہشتی زیور وغیرہ پڑھ کر سناتا ہوں۔ حیاۃ المسلمین میں بیس مضمون ہیں، حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی مغفرت اور بخشش کی امید صرف حیاۃ المسلمین سے ہے۔ حالاں کہ حضرت ڈیڑھ ہزار تصانیف کےمصنف ہیں،تفسیر بیان القرآن،التکشف، اعلاء السنن جیسی بڑی کتابوں کے مصنف ہیں لیکن فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی مغفرت کی امید حیاۃ المسلمین سے ہے۔ آپ پڑھ کر دیکھیےبہت نور محسوس ہوگا، اپنے گھر والوں کو بھی ایک مضمون سنادیجیے، اس میں بیس سبق ہیں، روزانہ ایک سبق سنائیں گے تو بیس دن میں کتاب ختم ہوجائے گی۔ ایسے ہی تعلیم الدین ہے، اس میں کھانے پینے کی، سونے جاگنے کی سنتیں ہیں، اس کا بھی اپنے گھروں میں مطالعہ کیجیے۔محض آٹھویں دن کی خوراک پر بھروسہ نہ کریں کہ