قرب الہی کا اعلی مقام |
ہم نوٹ : |
|
اطاعت اور نافرمانی کی خاصیتوں کا فرق جو شخص اللہ کی کسی بھی نافرمانی میں مبتلا ہو، چاہے شوہر کی نافرمانی ہو، چاہے بیوی کے حقوق میں زیادتی ہو، چاہے اپنے بڑوں کے ساتھ بے ادبی کرتا ہو، غرض اللہ تعالیٰ کی کسی قسم کی بھی ناراضگی والا عمل کرتا ہو اس کی زندگی پریشانی میں رہے گی، ایسے لوگ ہمیشہ بے چین اور بد حواس رہتے ہیں،یہ اللہ کی نافرمانی کا خاصہ ہے۔ اللہ کی نافرمانی کا خاصّہ بے سکونی اور پریشانی ہے اور اللہ کی فرماں برداری کا خاصّہ سکون اور اطمینان ہے۔ جو چیز مرکز سے قریب ہوتی ہے پُرسکون ہوتی ہے، مرکز سے دور ہوجائے تو سکون چھن جاتا ہے۔ بتاؤ!مچھلی کا مرکز کیا ہے؟ پانی ہے۔پانی میں اس کو سکون ملتا ہے یا نہیں؟ اگر سمندر میں طوفان آیا ہو تو مچھلی کبھی شکایت کرتی ہے کہ آج کل سمندر میں طوفان آیا ہوا ہے ہمیں یہاں سے نکال کر ڈھاکہ کی شاہی مسجد یا لال باغ کے مدرسے میں داخلہ دے دو۔ کتنا ہی طوفان ہو لیکن مچھلی کا مرکز چوں کہ پانی ہے اس لیے وہ پانی ہی میں رہنا چاہے گی۔ایسے ہی ہماری روح کا مرکز اللہ ہے، ہم اللہ سے قریب رہیں گے تو بلاؤں کا احساس بھی نہیں ہوگا ان شاء اللہ!کیوں کہ ہم مرکز سے وابستہ ہیں۔ اسی لیےایک شاعر کہتا ہے کہ ؎وہ تو کہیے کہ تیرے غم نے بڑا کام کیا ورنہ مشکل تھا غم زیست گوارا کرنا یعنی اے اللہ آپ کی محبت کے غم نے تو بڑا کام بنادیا کہ سارےغم آسان ہوگئے۔ جس کو اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایک ذرہ غم عطا ہوتا ہے اس کو دنیا کے سارے غم آسان ہوجاتے ہیں۔ حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎تیرے غم کی جو مجھ کو دولت ملے غم دو جہاں سے فراغت ملے اے اللہ! اگر آپ کی محبت کا غم ہمیں عطاہوجائے تو دونوں جہاں کے غم سے چھٹی مل جائے۔