سایہ عرش کا حصول |
§ہم نوٹ : |
|
اللہ والوں کے ہاتھ اُٹھنے سے دعاؤں کا کچھ اور ہی رنگ ہوجاتا ہے۔ لہٰذا جگر صاحب واپس آئے اور شراب چھوڑ دی، جب شراب چھوڑ دی تو ڈاکٹروں نے کہا کہ جگر صاحب اگر آپ نے اچانک شراب چھوڑی تو مرجائیں گے، شراب آپ کے لیے آبِ حیات ہے۔ جگر صاحب نے پوچھا کہ اگر پیتا رہوں گا تو کب تک جیتا رہوں گا؟ ڈاکٹروں نے کہا کہ آٹھ دس برس اور جی جائیں گے تو جگر صاحب نے کہا کہ خدا کے غضب کے سائے میں آٹھ دس برس جینے سے بہتر ہے کہ میں ابھی مرجاؤں، کم از کم شراب چھوڑنے کی وجہ سے خدا کی رحمت کے سائے میں تو جاؤں گا، مجھے وہ موت عزیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے میں آئے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اگر نظر کی حفاظت کرنے میں اور حسینوں سے دست بردار ہونے میں کسی کو موت بھی آجائے تو اُس موت کو لبیک کہو۔ آہ! کاش کہ ہمارے سینوں میں اللہ تعالیٰ یہ درد عطا فرمادیں کہ ہم گناہ چھوڑنے میں اپنی جان کی بازی لگادیں، حسینوں پر نظر نہ ڈالیں چاہے جان نکل جائے، آخر مؤمن کس لیے پیدا ہوا ہے؟ بتاؤ! مؤمن جان بچانے کے لیے پیدا ہوا ہے یا جان دینے کے لیے پیدا ہوا ہے؟ اگر جان بچانا مقصود ہوتا تو اللہ تعالیٰ جہاد کیوں فرض فرماتے؟ بتاؤ بھئی! اگر جان بچانے کے لیے اللہ ہمیں دنیا میں بھیجتا تو کیا جہاد فرض ہوتا؟ جہاد میں لڈّو ملتے ہیں یا جانیں جاتی ہیں اور خون بہتا ہے؟ جگر صاحب کی بات سن کر ڈاکٹر خاموش ہوگئے کہ اب ہم آپ کو کچھ نہیں کہیں گے۔ بس جگر صاحب نے شراب چھوڑ دی، پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے سب بیماری ختم ہوگئی اور وہ خوب اچھے ہوگئے۔ جو اللہ تعالیٰ پر فدا ہوگا تو کیا اللہ تعالیٰ اُسے ایسے ہی چھوڑ دیں گے؟ اللہ تعالیٰ اس کی مدد نہ فرمائیں گے؟ آپ گناہ چھوڑ کر تو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ اُس کا کیا بدل دیتے ہیں، ایک بار اللہ کہنے میں ان شاء اﷲ جنت کا مزہ آجائے گا۔ اُس کے بعد جگر صاحب حج کر آئے، وہیں انہوں نے داڑھی بھی رکھ لی۔ پہلے زمانے میں بمبئی سے حج کے لیے جانا ہوتا تھا۔ جب واپس آئے اور بمبئی میں اپنی داڑھی آئینہ میں دیکھی تو ایک شعر کہا ؎ چلو دیکھ آئیں تماشا جگر کا سنا ہے وہ کافر مسلمان ہوگا