سایہ عرش کا حصول |
§ہم نوٹ : |
|
پر رسولِ خدا کو کیوں بھول جاتے ہو؟ اس وقت یہ حدیث کیوں نہیں یاد آتی لَا تَنْظُرُوْا اِلَی الْمُرْدَانِ اے لوگو! حسین امردوں کو مت دیکھو، اپنی آنکھوں کی حفاظت کرو۔ نفس مردانہ وار حملہ کرنے ہی سے چِت ہوتا ہے مجھے یہی شکایت ہے، خود سے بھی یہی شکایت ہے، یہ نہ سمجھیے کہ میں کوئی مقدس شخصیت ہوں، ہم کو اپنے دست و بازو کی سستی سے شکایت ہے کہ ہم نفس پر مردانہ وار حملہ کیوں نہیں کرتے؟ کیا پیارا شعر یاد آیا ،مولانا رومی فرماتے ہیں ؎ ہیں تبر بردار مردانہ بزن چوں علی واری درے خیبر شکن ارے! نفس پر مردانہ وار حملہ کرو اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرح خیبر کا قلعہ فتح کرو۔ یہ نفس مردانہ وار حملے ہی سے چت ہوگا، یہ نفس ہیجڑوں سے چت نہیں ہوگا، چوڑیاں پہننے والوں سے چِت نہیں ہوگا، اگر مگر لگانے والوں سے چِت نہیں ہوگا، لہٰذا ہمت سے کام لینا چاہیے اور ہمت ملتی ہے اللہ والوں سے، تو آدمی اپنی ہمت استعمال کرے، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور خاصانِ خدا سے ہمت کے لیے دعا کی درخواست کرائے۔ خواجہ صاحب فرماتے ہیں ؎ بہت گو ولولے دل کے ہمیں مجبور کرتے ہیں تری خاطر گلے کا گھونٹنا منظور کرتے ہیں اور ؎ میرے انجامِ الفت کو ذرا تم دیکھتے جانا میری ویرانیاں آباد ہیں خونِ تمنّا سے تو اللہ والے اور اللہ والوں کے غلام دریائے خوں سے گزرتے ہیں، اس لیے اُن کے چراغِ عزت کو، اُن کے چراغِ آبرو کو کوئی بجھا نہیں سکتا۔ اب میرا شعر سنیے ؎ ایک قطرہ اگر ہوتا تو وہ چھپ بھی جاتا کس طرح خاک چھپائے گی لہو کا دریا