اہل محبت کی شان |
ہم نوٹ : |
|
اُن ہی کو وہ ملتے ہیں جن کو طلب ہے وہی ڈھونڈتے ہیں جو ہیں پانے والے دوستو! میں یہی کہتا ہوں کہ آج بھی آپ کے کراچی کے مولانا تقی عثمانی محدث ہیں، مولانا رفیع عثمانی محدث ہیں، ان بڑے بڑے حدیث کے اساتذہ نے ڈاکٹر عبد الحی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کی جوتیاں اُٹھائی ہیں، کیوں؟ اپنی اصلاح کے لیے۔ نفس مٹتا ہی اسی سے ہے، نفس کے مٹنے کی بجز اس کے کوئی شکل نہیں۔ موت سے پہلے آخرت کی تیاری کر لیں تومیں یہ عرض کررہا تھا کہ زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں، کوئی جوان ہے، کوئی ادھیڑ عمر کا ہے، کوئی ستّر سال کا بڈھا ہے، قبرستان میں ہر عمر کے لوگ سوئے ہوئے ہیں۔ سترہ سال کی جوانی میں میرا ایک دوست دنیا سے انتقال کرگیا ؎ نہ جانے بلالے پیا کس گھڑی تو رہ جائے تکتی کھڑی کی کھڑی لہٰذا جلدی جلدی فکر کرلو، اللہ تعالیٰ نے ہم کو جو یہ جسم دیا ہے یہ اپنی عبادت کے لیے دیا ہے، ایک دن یہ جسم زمین میں دفن ہونے والا ہے، مرنے کے بعد قبر میں گرمیوں میں چوبیس گھنٹے اور سردیوں میں بہتّر گھنٹے کے بعد یہ جسم پھٹ جائے گا اور کیڑے ہمارے اعضا کو کھانا شروع کردیں گے۔ لہٰذا ہر وقت اپنے جسم کی مانگ پٹی ہی میں نہ لگے رہو۔ جلدی جلدی اس جسم سے محنت کرکے اﷲ کی محبت حاصل کرلو، اﷲ والی زندگی اختیا ر کرلو۔ ان گالوں کو کیڑے کھانے والے ہیں لہٰذا ان گالوں پر داڑھیوں کو جمالو تاکہ اﷲ و رسول خوش ہوجائیں، آخر ایک دن تو یہ چیز آپ سے چھننے والی ہے، گالوں کی یہ زمین بھی چھن جائے گی۔ یہ کھیتی چند دن کے لیے ملی ہے۔ غافل دلوں کے لیے موت کا مراقبہ اکسیر ہے اس کے لیے روزانہ قبر کا مراقبہ کیجیے ان شاء اﷲ اصلاحِ نفس میں اکسیر پائیں گے، ایک