مقام اولیاء صدیقین |
ہم نوٹ : |
|
عرض مرتب مرشدی ومولائی عارف باللہ حضرتِ اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کایہ عظیم الشان وعظ ۴ذی قعدہ ۱۴۲۰ھ مطابق ۱۱فروری۲۰۰۰ء بروز جمعۃ المبارک بوقت ساڑھے گیارہ بجے صبح مسجدِ اشرف گلشن اقبال بلاک نمبر ۲ میں ہوا۔جب حضرت والا مسجد میں بیان کے لیے تشریف لائے تو ایک صاحب نے نفل کی نیت باندھ لی۔ جب وہ سلام پھیرچکے تو حضرت والا نے جو ملفوظ ارشاد فرمایا وہ خواص وعوام سب کے لیے ضروری اور مفید ہے، اس کو یہاں نقل کرتا ہوں کیوں کہ حضرت والا مشعلِ سنت وشریعت سے سلوک کا راستہ طے کراتے ہیں،اسی لیے حضرت مولانا صدیق احمدصاحب باندوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت والا کو خط میں تحریرفرمایا تھا کہ آپ کا ہر ارشاد اس قابل ہے کہ اس کو شایع کردیا جائے اور جب حضرت والا باندہ تشریف لے گئے تھے تو مولانا موصوف نے حضرت والا سے فرمایا تھا کہ حضرت آپ آیندہ یہاں تین ماہ کے لیےویزے پر تشریف لائیں تو میں آپ کے ساتھ سارے ملک کا دورہ کروں گا اور مجھے اُمید ہے کہ آپ کے فیض سے تصوف زندہ ہوجائے گا۔ ان صاحب کے نفل پڑھنے کی وجہ سے حضرت نے بیان شروع نہیں فرمایا۔ جب وہ نماز پڑھ چکے تو ارشاد فرمایا کہ مسئلہ یاد کرلو کہ جب دین کی بات ہورہی ہو تو نفل مت پڑھو، اجتماعی ثواب حاصل کرو، کیوں کہ حدیثِ پاک میں ہے کہ دین کی کوئی بات سن لوگے تو ایک ہزار رکعت سے زیادہ ثواب نامۂ اعمال میں چڑھ جائے گا۔ اس حدیث کے ساتھ بے پروائی، مذاق اور ناشکری مت کرو۔ اس فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ہے کہ جب کوئی دینی اجتماع ہو تو نفل کے بجائے اس اجتماع میں شریک ہوجاؤ اور اس کے چار فائدے الگ مستزاد ملیں گے۔مسلم شریف کی حدیث ہے لَا یَقْعُدُ قَوْمٌ یَّذْکُرُوْنَ اللہَ جب کوئی قوم اجتماعی ذِکر میں مشغول رہتی ہے تو اِلَّاحَفَّتْھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ فرشتے ان کو گھیرلیتے ہیں یعنی فرشتوں سے ان کی ملاقات ہوتی ہے وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ اللہ کی رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے۔تو دائرۂ رحمت سے ایگزٹ (Exit) کیوں کررہے ہو؟ دائرۂ رحمت سے خروج کیوں کررہے ہو؟ جس کے پاس حسنِ ظن سے آتے ہو اس کی بات ماننا چاہیے۔ اور تیسرا فائدہ ہے وَنَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ اس اجتماع کی برکت سے قلب پر سکینہ نازل ہوتا ہےاور جب سکینہ نازل ہوگا تو ہر وقت اللہ کی