ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2016 |
اكستان |
|
(٥) قیام کی حالت میںمصلی کے لیے حکم ہے کہ نگاہ سجدہ کی جگہ پرہوکیونکہ اِس سے دل جمعی پیداہوتی ہے اورخشوع وخضوع کے آثارنمایاںہوتے ہیں،دیکھ کر قرآن پڑھنے کی صورت میںنگاہ یقیناقرآنِ مجیدکے صفحات و حروف پرہوگی جس سے نمازکاایک اہم اَدب فوت ہوجائے گا۔ اِمام اِبن کثیررحمة اللہ علیہ نے لکھاہے : قَالَ شَرِیْکُ الْقَاضِیْ: یَنْظُرُ فِیْ حَالِ قِیَامِہ اِلٰی مَوْضعِ سُجُوْدِہ کَمَا قَالَ جَمْہُوْرُ الْجَمَاعَةِ لِاَنَّہ' اَبْلَغُ فِ الْخُضُوْعِ وَآکَدُ فِی الْخُشُوْعِ وَقَدْ وَرَدَ بِہِ الْحَدِیْثُ ١ ''قاضی شریک رحمة اللہ علیہ نے فرمایا : قیام کی حالت میںمصلی کی نظر سجدہ کی جگہ پرہونی چاہیے،جمہورنے یہی فرمایاہے اِس لیے کہ یہ خشوع وخضوع کی اَعلیٰ ترین کیفیت ہے اوراِس سلسلے میںحدیث بھی واردہوئی ہے۔'' اِمام محمدرحمة اللہ علیہ نے مؤطامیں لکھاہے : یَنْبَغِیْ لِلْمُصَلِّی اِذَا قَامَ فِیْ صَلَاتِہ اَنْ یَّرْمِیَ بِبَصَرِہ اِلٰی مَوْضعِ سُجُوْدِہ ، وَھُوَ قَوْلُ اَبِْ حَنِیْفَةَ .(المؤطا باب وضع الیمین علی الیسار رقم الحدیث: ٢٩١ ) ''مصلی جب قیام کی حالت میں ہوچاہیے کہ وہ اپنی نگاہ سجدہ کی جگہ پر رکھے اوریہی اِمام اَبوحنیفہ رحمةاللہ علیہ کا قول ہے۔'' علامہ اَلبانی رحمة اللہ علیہ نے نبی کریم ۖ کی نمازپڑھنے کی کیفیت کے بارے میںلکھا : وَکاَنَ ا اِذَا صَلّٰی طَاْطَاَ رَاْسَہ وَرَمٰی بِبَصَرِہ نَحْوَ الَرْضِ. ٢ ''جب آنحضرت ۖ نمازپڑھتے توسرکوجھکائے رکھتے اورنگاہ کو زمین کی طرف لگائے رکھتے تھے۔'' علامہ اِبن سیرین رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : کَانُوْا یَسْتَحِبُّوْنَ اَنْ یَّنْظُرَ الرَّجُلُ فِیْ صَلَاتِہ اِلٰی مَوْضعِ سُجُوْدِہ . ٣ ١ تفسیر اِبن کثیر البقرة : ١٤٤ ٢ اصل صفة صلا ة النب : ١ /٢٣٠ ٣ تعظیم قدر الصلاة: ١/١٩٢