ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2016 |
اكستان |
|
جنابِ سرکارِ دو عالم ۖ سے '' اِسلام اِیمان اور اِحسان '' کاسوال کیاہے ۔جناب ِ رسول اللہ ۖ نے اِحسان کی تعریف فرمائی ہے اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ اِحسان یہ ہے کہ عبادت کی حالت میںخیال ایسا ہو کہ گویااللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ غلام جب اپنے آقا کو دیکھ کر کام کرتا ہے توخشوع وخضوع کی کوئی حالت نہیں چھوڑتا جس کواپنے اَندر پیدانہ کر لیتاہو، یہی حالت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہونی چاہیے اِسی کا نام ''اِحسان'' ہے، اِسی اِحسان کوحاصل کرنے کے لیے تصوف کے تمام کام کیے جاتے ہیں ،ہم عبادت کرتے ہیں توزبان پر فاتحہ شریف اور کلام اللہ ہوتاہے اور دل تجارت، اہل و عیال اور دُنیاوی ضررتوں میں لگا رہتا ہے، یہ تواِحسان نہ ہوا یہ توغفلت ہوئی۔ اِحسان تو اِس طرح ہونا چاہیے جس طرح مالک کے رُو برو غلام رہتا ہے یہ'' اِحسان'' حاصل کرنے سے حاصل ہوتاہے اِسے حاصل کرنے کے لیے جو کام کیے جاتے ہیں اُسے ''سلوک'' کہتے ہیں۔ دواہم چیزیں : حضرات ِ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے دور میں دو چیزیں مقصود ہوتی تھیں : ایک حضور مع اللہ اِسی کو'' اِحسان'' کہتے ہیں۔ دُوسری شکل و صورت اَخلاق و عادات جنابِ رسول اللہ ۖ کی سی ہوجائیں۔ متقدمین کا طریقہ : متقدمین اَخلاق و عادات کے درست کرنے کومقدم رکھتے تھے جس سے اِنسان کے دل سے ریا، سُمعَہ، کبر و بغض وغیرہ کو دُور کیا کرتے تھے، اِس میں سالہا سال لگ جاتے تھے اُس کے بعد حضور مع اللہ کی تعلیم دیا کرتے تھے اِس میں عمریں لگ جاتی تھیں اور بسا اَوقات حضور حاصل ہونے سے پہلے سالک کی زندگی ختم ہوجاتی تھی۔ متاخرین کا طریقہ : متاخرین نے اِحسان یعنی حضور کو مقدم رکھا ہے اِسی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اِس کے ساتھ ساتھ اَخلاق کی درستگی کی بھی کوشش ہوتی رہتی ہے اور خود حضور کی کیفیت سے آہستہ آہستہ اَخلاق کی اِصلاح