Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2016

¾اكستان Ù

59 - 65
''حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم  ۖ نے مجھ سے فرمایا کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم روزانہ دن میں روزہ رکھتے ہو اور رات میں طاعت و عبادت میں مصروف رہتے ہو، میں نے عرض کیا کہ جی ہاں یارسول اللہ  ۖ  ایسا ہی ہے،آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو (بلکہ) روزہ بھی رکھو  اور بغیر روزہ کے بھی رہو، رات میں عبادت بھی کرو اور سویا بھی کرو کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے، جس شخص نے ہمیشہ روزہ رکھا (جسے   صوم الدھر کہتے ہیں) اُس نے (گویا) روزہ نہیں رکھا، اَلبتہ ہر مہینے میں تین دن کے روزے ہمیشہ کے روزے کے برابر ہیں لہٰذا ہر مہینے میں تین دن روزے رکھ  لیا کرو اور اِسی طرح ہر مہینہ میں قرآن پڑھا کرو (یعنی ایک مہینہ میں ایک قرآن  ختم کرلیا کرو) میں نے عرض کیا کہ میں اِس سے زیادہ کی ہمت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا (تو پھر) بہترین روزہ جو جناب داو'د( علیہ السلام )کا روزہ ہے وہ رکھ لیا کرو (جس کا طریقہ یہ ہے کہ) ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن روزہ کا ناغہ کرو  اور سات راتوں میں ایک قرآن ختم کیا کرو اور اِس میں اِضافہ نہ کرو۔ ''
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَےْہِ وَسَلَّمَ  یَا اَبَاذَرٍّ اِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّھْرِ ثَلَاثَةَ اَیَّامٍ فَصُمْ ثَلٰثَ عَشَرَةَ وَاَرْبَعَ عَشَرَةَ وَخَمْسَ عَشَرَةَ ۔ ١
''حضرت اَبوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم  ۖ نے فرمایا اَبوذر  !  اگر تم مہینہ میں تین دن روزہ رکھنا چاہو تو (چاند کی) تیرہویں چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزہ رکھا کرو۔ ''
  ١   ترمذی ج ا ص١٥٩  باب ما جاء فی صوم ثلٰثة ایام من کل شھر، نسائی ج١ ص ٢٥٧  باب صوم ثلٰثة ایام من الشھر، مشکٰوة ص١٨٠

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 اس شمارے میں 3 1
3 حرف آغاز 4 1
4 درس حدیث 7 1
5 آقائے نامدار ۖ کی دُنیاسے بے رغبتی 7 4
6 دُنیا گزارے کی جگہ ہے محبت کی نہیں : 8 4
7 دورِ حاضر کے سیاسی اور اِقتصادی مسائل 10 1
8 اِسلامی تعلیمات و اِشارات 10 7
9 قومی مصارف اور ذرائع آ مدنی....... کتاب اللہ کے اِشارات : 10 7
10 نیکی : 10 7
11 دُوسری ضرورتیں اورمَداتِ آمدنی : 12 7
12 تناسب : 15 7
13 دفاعی مصارف اور ذرائع آمدنی : 16 7
14 حکومت ِاِسلامیہ ، پوری دُنیا کی قیادت : 16 13
15 اَقلیتوں پر بوجھ نہیں ڈالا گیا : 18 13
16 اِسلام کیا ہے ؟ 20 1
17 خاص وقتوں کی خاص دُعائیں 20 16
18 قصص القرآن للاطفال 24 1
19 پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصے 24 18
20 ( ہاتھی والوں کا قصہ ) 24 18
21 چو دہویں صدی کا شیخ الحدیث 28 1
22 شیخ الا سلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمد مدنی نور اللہ مر قدہ 28 21
23 اِبتدائی تعلیم : 28 21
24 روانگی دیو بند و آغاز ِ عربی : 29 21
25 دارُالعلوم دیو بند میں علمی اِستفادہ : 29 21
26 اَسا تذۂ کرام : 30 21
27 زمانہ ٔ طالب علمی میں خصوصی شغف : 31 21
28 مد ینہ منورہ میں درس و تد ریس : 32 21
29 صدارت دارُالعلوم دیو بند : 34 21
30 درسِ حدیث : 34 21
31 خصوصیاتِ سنن تر مذی : 35 21
32 سلسلہ سند ِ حدیث : 35 21
33 کیا اِسلام کی اِشاعت میں جبر و اِکراہ کا دخل ہے ؟ 38 1
34 کیا دین ِمسیحی میں قتال کا تصور نہیں ؟ 40 33
35 یہودیت اور تشدد پسندی : 40 33
36 ایک اور واقعہ : 53 33
37 بقیہ : قرآن کے پیارے قصے 57 18
38 گلدستہ ٔ اَحادیث 58 1
39 حضور ۖ ہر مہینہ تین روزے رکھا کرتے تھے : 58 38
40 نبی اَکرم ۖ روزانہ سوتے وقت تینوں قل پڑھ کر دم کیا کرتے تھے : 61 38
41 اَخبار الجامعہ 62 1
42 جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد 65 1
Flag Counter