ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2016 |
¾اكستان Ù |
|
''حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ۖ نے مجھ سے فرمایا کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم روزانہ دن میں روزہ رکھتے ہو اور رات میں طاعت و عبادت میں مصروف رہتے ہو، میں نے عرض کیا کہ جی ہاں یارسول اللہ ۖ ایسا ہی ہے،آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو (بلکہ) روزہ بھی رکھو اور بغیر روزہ کے بھی رہو، رات میں عبادت بھی کرو اور سویا بھی کرو کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے، جس شخص نے ہمیشہ روزہ رکھا (جسے صوم الدھر کہتے ہیں) اُس نے (گویا) روزہ نہیں رکھا، اَلبتہ ہر مہینے میں تین دن کے روزے ہمیشہ کے روزے کے برابر ہیں لہٰذا ہر مہینے میں تین دن روزے رکھ لیا کرو اور اِسی طرح ہر مہینہ میں قرآن پڑھا کرو (یعنی ایک مہینہ میں ایک قرآن ختم کرلیا کرو) میں نے عرض کیا کہ میں اِس سے زیادہ کی ہمت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا (تو پھر) بہترین روزہ جو جناب داو'د( علیہ السلام )کا روزہ ہے وہ رکھ لیا کرو (جس کا طریقہ یہ ہے کہ) ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن روزہ کا ناغہ کرو اور سات راتوں میں ایک قرآن ختم کیا کرو اور اِس میں اِضافہ نہ کرو۔ '' عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَےْہِ وَسَلَّمَ یَا اَبَاذَرٍّ اِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّھْرِ ثَلَاثَةَ اَیَّامٍ فَصُمْ ثَلٰثَ عَشَرَةَ وَاَرْبَعَ عَشَرَةَ وَخَمْسَ عَشَرَةَ ۔ ١ ''حضرت اَبوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ۖ نے فرمایا اَبوذر ! اگر تم مہینہ میں تین دن روزہ رکھنا چاہو تو (چاند کی) تیرہویں چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزہ رکھا کرو۔ '' ١ ترمذی ج ا ص١٥٩ باب ما جاء فی صوم ثلٰثة ایام من کل شھر، نسائی ج١ ص ٢٥٧ باب صوم ثلٰثة ایام من الشھر، مشکٰوة ص١٨٠