ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2016 |
¾اكستان Ù |
|
یہ کتنی رقم ہو گی، کہاں سے فرا ہم ہو گی ؟ قرآنِ حکیم اِس کا جواب دینے سے پہلے یہ تحقیق کرتا ہے کہ یہ ضرورت کس کی ہے ؟ ضرورت مند کون ہے ؟ تعلیم و تربیت اور ترقی، فرد کی ضرورت ہے یا اللہ تعالیٰ کی ؟ بعنوانِ دیگر فرد کی ضرورت ہے یا حکومت کی ؟ اپنی اور اپنی اَولاد کی ترقی کی ضرورت بڑے سے بڑے دولت مند اَمیر کبیر کو بھی ایسی ہے جیسے معمولی آدمی کو،اِس ضرورت کے لحاظ سے اَمیر کبیر اور بڑے سے بڑا دولت مند بھی حاجت مند اور قرآنِ حکیم کے الفاظ میں ''فقیر ''ہے۔ تعلیمی ضرورتوں کے علاوہ اور بھی ضرورتیں ہیں جن کا تعلق پوری قوم کی تعمیر و ترقی سے ہے مثلاً سڑ کیں ، نہریں، پُل، مسافر خانے اور ترقی پذیر دور کے لحاظ سے ذرائع موا صلات و مر سلات (ڈاک، تار، بحری اور ہوائی سر وسیں وغیرہ) مگر یہ تمام ضرورتیں خود قوم کی ضرورتیں ہیں خدا کی ضرورتیں نہیں ہیں اللہ تعالیٰ کااِحسان یہ ہے کہ وہ اِن مَدات پر خرچ کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور اِن تمام رقوم کو جو اِن مدات کے لیے عطا کی جائیں اپنے ذمہ قرض مان لیتا ہے اور اِس مدد کو خود اپنی مدد قرار دیتا ہے اور بڑی پختگی سے وعدہ فرماتا ہے۔ ( وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہ ط اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیّ عَزِیْز) (سُورۂ حج آیت : ٤٠) ''یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرے گا اُن کی جو اللہ کی مدد کرتے ہیں، بے شک اللہ تعالیٰ قوت رکھنے والا سب پر غالب ہے۔'' اِن وسیع اور ہمہ گیر ضرورتوں کو سامنے رکھیے پھر سورۂ محمد (ۖ)کی آخری آیتوں کامطالعہ کیجیے اِن آیتوں کے مفہوم اور منشاء پر غور کرتے ہوئے جیسے جیسے صَرف کی مَدات آپ کے سامنے آئیں گی مَدات کی آمد کا سراغ بھی مِل جائے گا۔ آیات کا مضمون یہ ہے :