ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2015 |
اكستان |
|
کوئی کلام نہیں مگر جبکہ نسبت واقعی ہو مثلاً حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ کا کوئی لباس ہو یا اور کوئی اُن کا تبرک ہو ہمارے نزدیک بھی وہ قابلِ تعظیم ہیں اور جو نسبت اپنی طرف سے تراشی ہوئی ہو وہ ہرگز اَسبابِ تعظیم سے نہیں ورنہ کل کو کوئی خود اِمام حسین رضی اللہ عنہ ہونے کا دعویٰ کرنے لگے تو چاہیے کہ اُس کو اور زیادہ تعظیم کرنے لگو حالانکہ بالیقین اُس کو گستاخ و بے ادب قرار دے کر اُس کی سخت توہین کے درپے ہوجائوگے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ نسبت ِکاذبہ سے وہ شے معظم نہیں ہوئی بلکہ اِس کذب کی وجہ سے زیادہ اہانت کے قابل ہوتی ہے۔ اِس بناء پر اِنصاف کرلو کہ تعزیہ تعظیم کے قابل ہے یا اِہانت کے۔ (٢) معازِف و مزامیر کا بجانا : اِس کی حرمت حدیث میں صاف صاف مذکور ہے اور باب اَوّل میں وہ اَ حادیث لکھی گئی ہیں اور قطع نظر خلافِ شرع ہونے کے عقل کے بھی تو خلاف ہے۔ معازف و مزامیر تو سامانِ سرور ہیں، سامانِ غم میں اِس کے کیا معنی ؟ یہ تو درپردہ خوشی منانا ہے۔ ع برچنیں دعوائے اُلفت آفریں (٣) مجمع فساق و فجار کا جمع ہونا : اِس میں وہ فحش واقعات ہوتے ہیں کہ ناگفتہ ٔبہ ہیں۔ (٤) نوحہ کرنا : اِس کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔اَبوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لعنت فرمائی ہے رسول اللہ ۖ نے نوحہ کرنے والے اور اُس کی طرف کان لگانے والے کو۔ (اَبوداو'د شریف) (٥) مرثیہ پڑھنا : اِس کی نسبت حدیث میں صاف ممانعت آئی ہے۔ اِبن ِماجہ میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے مرثیوں سے منع فرمایا ہے۔ (٦) اکثر موضوع روایت پڑھنا : اِس کی نسبت اَحادیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ (٧) اِن اَیام میں قصداً زینت ترک کرنا : جس کو'' سوگ'' کہتے ہیں اور حکم اِس کا شریعت میں یہ ہے کہ عورت کو صرف خاوند پر چار ماہ دس دِن یا وضع حمل تک واجب ہے اور دُوسرے عزیزوں کے مرنے پر تین دِن جائز ہے باقی حرام، سو اَب تیرہ سو سال کے بعد یہ عمل کرنا بِلاشک حرام ہے۔ (٨) کسی خاص لباس یا کسی خاص رنگ میں اِظہارِ غم کرنا : اِبن ِماجہ میں حضرت عمران