ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2014 |
¾اكستان Ù |
|
اِدھردودِن سے راقم حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہم سے بھی رابطہ کی کوشش کرتا رہا اُن کی اِنتہائی مصروفیت کی وجہ سے رابطہ نہ ہوسکا، ١٦ اگست کو ہمارے رابطہ کی کوشش اُن کے علم میں آئی تو اُن کی طرف پیغام مِلا کہ عصر کے بعد میں آپ سے رابطہ کروں گا، عصر کے بجائے مغرب بعد اُن کا فون آیا تو میں نے اُن کو صورتِ حال بتلائی اور فارم کے خاص مندرجات ذکر کیے، اُنہیں بھی سن کر تعجب ہوا میں نے عرض کیا کہ یہ دونوں فارم آپ کو اِی میل کر دیے جائیں ؟ تو اُنہوں نے فرمایا کہ '' ضرورت نہیں ہے، اِنشاء اللہ ہم یہ ہر گز پُر نہیں کریں گے میں ابھی بات کرتا ہوں '' اَگلی صبح دس بجے کے قریب ڈی ایس پی صاحب پھر اپنے اہلکاروں سمیت دفترِ تعلیمات میں آگئے تو مولانا اَمان اللہ صاحب نے مجھے فون پر بتلایا کہ وہ پھر پُرشدہ فارم لینے آگئے ہیں، میں نے اُن سے کہا کہ اِن کو بتلا دیں کہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب اور وفاق المدارس سے ہم رابطے میں ہیں جب تک اُن کی طرف سے کوئی ہدایات نہیں آتیں ہم یہ فارم پُر نہیں کریں گے اور اگر آپ ضرورت سمجھیں تو اِن کو میرے پاس بھیج دیں، چند منٹ کے بعدوہ میرے پاس تشریف لے آئے اُن کا کہنا تھا کہ ہم ماتحت لوگ ہیں اُوپر سے گزشتہ رات عشاء کے وقت میرے گھر پر بذریعہ فون آرڈر آیا اِس لیے ہم آگئے، ہماری گفتگو کے جواب میں اُن کے پاس اِس کے علاوہ کوئی وزنی بات نہ تھی۔ ہم نے اُن کو بتلادیا کہ اگر مولانا اور وفاق کی طرف سے اَثبات میں جواب آگیا تو ہم بِلا تأمل فارم پُر کر کے آپ کو دے دیں گے اور اگر نفی میں جواب آیا تو ہر گز نہیں دیں گے، اِس پر مجلس برخاست ہوگئی۔ اِس کے بعد میں نے مولانا فضل الرحمن صاحب کو تازہ صورتِ حال سے آگاہ کیا ،کچھ دیر بعد اُن کی طرف سے پیغام آگیا کہ ''میں نے رات ہی کو وزیر اَعلیٰ پنجاب شہباز شریف صاحب سے بات کرلی تھی اُنہوں نے اِطمینان دِلایا ایسا نہ ہوگا اور سپیشل برانچ والوں کو بھی ہدایات دے دی ہیں۔'' اِس کے بعد سے تاحال بحمدللہ اہلکاروں کا اِس سلسلہ میںپھر اِس طرف آنا نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا اور وفاق کے ذمہ داران کو اُن کی سعی مشکور پر اَجرِ عظیم عطا فرمائیں۔