Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

428 - 465
٦   ولو لم  یقل ہکذا یقع واحدة لانہ لم تقترن بالعدد المبہم فبقی الاعتبار لقولہ انت طالق (١٧٩٤) واذا وصف الطلاق بضرب من الزیادة والشدة کان بائنا مثل ان یقول انت طالق بائن او البتة )   ١   وقالالشافعی یقع رجعیا اذا کان بعد الدخول لان الطلاق شرع معقبا للرجعة فکان وصفہ بالبینونة خلاف المشروع فیلغو کما اذا قال انت طالق علی ان لا رجعة لی علیک   

ترجمہ:  ٦  اور اگر ھکذا ، نہیں کہا تو ایک طلاق واقع ہو گی اس لئے کہ عدد مبہم نہیں ملا تو انت طالق کے قول کا اعتبار باقی رہ گیا ]اور اس سے ایک طلاق واقع ہو گی [ 
تشریح:   انت طالق کے بعد ھکذا نہیں کہا تو اب دو یا تین طلاق کا اشارہ نہیں ہے اس لئے اب صرف انت طالق باقی رہ گیا اس لئے اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو گی ۔
 ترجمہ:   (١٧٩٤)   اگر طلاق کی صفت ہو کسی زیادتی اور شدت  کے ساتھ تو طلاق بائن ہوگی، مثلا یہ کہے کہ تمکو طلاق بائن ہے ، یا طلاق البتہ ہے ۔  
تشریح :   انت طالق کے ساتھ یا طلاق صریح کے ساتھ کوئی ایسا جملہ بڑھا دیا جس سے طلاق کی شدت محسوس ہوتی ہو تو اس سے طلاق رجعی کے بجائے طلاق بائنہ واقع ہو گی۔مثلا انت طالق کے ساتھ بائن لگا یا ، یا انت طالق کے ساتھ البتہ لگا دیا تو بائن اور البتہ شدت کا جملہ ہے اس لئے اس سے طلاق بائنہ واقع ہو گی ۔   
وجہ:   (١)  انت طالق کی وجہ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ۔اور مزید کو ئی شدت کا جملہ مثلا بائن  یا البتہ لگا دیا تو ان سے طلاق میں شدت واقع ہوگی۔  تو اس سے طلاق بائنہ واقع ہو گی ۔ اور اگر اس سے تین کی نیت کرے گا تو تین واقع ہوگی۔کیونکہ اس کا احتمال رکھتا ہے (٢) ان عمر بن الخطاب سئل عن رجل طلق امرتہ البتة ؟ فقال الواحدة تبت راجعھا ( مصنف عبد الرزاق ، باب البتة و الخلیة ، ج سادس ، ص ٢٧٨، نمبر ١١٢١٨)  اس اثر میں ہے کہ البتة کہا تو ایک طلاق بائنہ واقع ہو گی ۔ (٣) عن ھشام بن عروة عن ابیہ قال اذا طلق الرجل امرأتہ البتة فھی بائنة منہ بمنزلة الثلاث ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب البتة و الخلیة ، ج سادس ، ص ٢٨٠، نمبر ١١٢٢٤)  اس اثر میں ہے کہ البتة میں طلاق بائنہ ہے اور تین بھی ہو سکتی ہے ۔(٤) عن ابراہیم فی الخلیة ان نوی طلاقا فادنی ما یکون تطلیقة بائن ، ان شاء و شائت تزوجھا و ان نوی ثلاثا فثلاث ( مصنف ابن ابی شیبة ، باب ما قالوا فی الخلیة ، ج رابع ، ص ٩٦، نمبر١٨١٤٨) اس اثر میں ہے کہ خلیة کے لفظ میں ادنی درجہ یہ ہے کہ طلاق بائن ہو اسی طرح بائن کے لفظ سے بھی طلاق بائنہ واقع ہو گی ۔  
ترجمہ :   ١  امام شافعی  نے فر مایا کہ ایک طلاق رجعی واقع ہو گی اگر دخول کے بعد طلاق دی ہو، کیونکہ طلاق اس حال میں مشروع 

Flag Counter