(١٢٤٤)ومن اتخذ مکة دارًا فلیس علیہ طواف الصدر ) ١ لانہ علی من یصدر ُ ٢ الا اذا اتخذہا دارا بعد ما حل النفر الاول فیما ےُرویٰ عن ابی حنیفة ویرویہ البعضُ عن محمد لانہ وجب علیہ بدخول وقتہ فلا یسقط بنےة الا قامة بعد ذٰلک واﷲ اعلم بالصّواب۔
مر گیا تو کسی سے وہ نسک قضا کرائے ۔
ترجمہ: ( ١٢٤٤) کسی نے مکہ مکرمہ کو گھر بنا لیا تو اس پر طواف صدر نہیں ہے ۔ ١ اسلئے کہ طواف صدر اس پر ہے جو مکہ کوچھوڑ کر اپنا وطن جا رہا ہو ۔
تشریح :۔ طواف صدر یعنی طواف وداع اس پر جو مکہ مکرمہ سے باہر جائے ، لیکن جس نے مکہ مکرمہ کو گھر بنا لیا اس کو باہر نہیں جا نا ہے اس لئے اس پر طواف صدر نہیںہے ۔
وجہ : (١) عن ابن عباس قال کان الناس ینصرفون فی کل وجہ فقال رسول اللہ ۖ لا ینفرن أحد حتی یکون آخر عھدہ بالبیت ۔ ( مسلم شریف ، باب وجوب طواف الوداع و سقوطہ عن الحائض ،ص٥٥٧، نمبر٣٢١٩١٣٢٧) اس حدیث میں ہے کہ جو باہر جائے اس کو طواف وداع کر نا چاہئے ، یعنی اس پر طواف وداع جسکو طواف صدر کہتے ہیں واجب ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو مکہ مکرمہ سے باہر نہ جائے اس پر طواف وداع واجب نہیں ہے ۔
ترجمہ: ٢ مگر یہ کہ نفر اول یعنی بارہ تاریخ کے بعدمکہ مکرمہ کو گھر بنائے ، جیسا کہ امام ابو حنیفہ سے روایت ہے ۔ اور بعض حضرات نے روایت کی کہ یہ روایت امام محمد سے ہے ۔ اس لئے کہ اس پر طواف وداع کے وقت داخل ہو نے کی وجہ سے واجب ہو چکا ہے اس لئے اس کے بعد اقامت کی نیت سے طواف وداع ساقط نہیں ہو گا ۔ ۔ و اللہ اعلم بالصواب ۔
تشریح : نفر اول کا ترجمہ ہے پہلی مرتبہ کوچ کر نا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ بارہویں تاریخ کو رمی جمار کر کے منی سے کوچ کر تے ہیں اور مکہ مکرمہ آتے ہیں اس کو نفر اول کہتے ہیں ، اس نفر اول کے وقت طواف صدر کر نا واجب ہو جا تا ہے ، طواف صدر کے واجب ہو نے کے بعد کوئی مکہ مکرمہ کو گھر بنائے تو اس پر بھی طواف وداع واجب ہے کیونکہ وہ واجب ہو چکا ہے اس لئے ساقط نہیں ہوگا ۔ بعض حضرات نے یہ قول امام ابو حنیفہ کا بتلایا ہے اور بعض حضرات نے یہ قول امام محمد کا بتلا یا ہے ۔ ۔ و اللہ اعلم بالصواب