٢ وفائدة التأقیت المنع عن تاخیر الاحرام عنہا لانہ یجوز التقدیم علیہا بالاتفاق (١٠١٨) ثم الاٰفاقی اذا انتہیٰ الیہا علیٰ قصد دخول مکة علیہ ان یحرم قصد الحج او العمرة او لم یقصد عندنا )
١ لقولہ ں لایجاوز احد المیقات الا محرما
ترجمہ : ٢ توقیت کا فائدہ یہ ہے کہ ان میقات سے احرام کا مؤخر کر نا منع ہے اس لئے کہ اس سے مقدم کر نا بالاتفاق جائز ہے ۔
تشریح : حضور ۖ نے میقات متعین فر ما یا ، اس کا فائدہ یہ ہے کہ احرام کو ان میقات سے مؤخر کر نا ٹھیک نہیں ہے ، ہاں اس سے پہلے احرام باندھنا سب کے نزدیک جائز ہے ۔
وجہ: (١) ان میقات سے مؤخر کر نا ٹھیک نہیں ہے اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔ عن سعید بن جبیر عن ابن عباس أن النبی ۖ قال : لا تجاوزوا الوقت الا باحرام ۔ ( طبرانی کبیر ، باب مسند سعید بن جبیر عن ابن عباس ،ج حادی عشر ]١١[ ص ٣٤٥، نمبر ١٢٢٣٦ مصنف ابن ابی شیبة ، باب من کرہ أن یدخل مکة بغیر احرام ، ج ثالث ، ص ٢٠٢، نمبر ١٣٥١٥) اس حدیث میں ہے کہ میقات سے بغیر احرام کے نہیں گزر نا چاہئے(٢) اس اثر میں ہے۔عن ابن عباس أنہ کان یردھم الی المواقیت الذین یدخلون مکة بغیر احرام ( مصنف ابن ابی شیبة ، باب فی الرجل اذا دخل مکة بغیر احرام ما یصنع ؟، ج ثالث ، ص ٢٦٧، نمبر ١٤١٧٩سنن للبیھقی ، باب من مر بالمیقات یرید حجا او عمرة ج خامس ص ٤٤، نمبر ٨٩٢٤) اس اثر سے معلوم ہوا کہ میقات سے گزر جائے اس کو میقات پر واپس کیا جائے۔کیونکہ بغیر احرام کے آگے نہیں گزرنا چاہئے۔ (٣) عن علی قال : لا یدخلھا الا باحرام ، یعنی مکة ۔( مصنف ابن ابی شیبة ، باب من کرہ أن یدخل مکة بغیر احرام ، ج ثالث ، ص ٢٠٢، نمبر ١٣٥١٦)اس اثر میں ہے کہ میقات سے بغیر احرام کے نہیں گزرنا چاہئے اور میقات سے پہلے احرام باندھنا اچھا ہے اس کی دلیل یہ اثر ہے ۔ عن ابن عمر أنہ احرم من بیت المقدس ۔( مصنف ابن ابی شیبة ، باب فی تعجیل الاحرام من رخص أن یحرم من الموضع البعید ، ج ثالث ، ص ١٢١، نمبر ١٢٦٧٢) اس اثر میں ہے کہ میقات سے بہت پہلے سے احرام باندھے تو باندھ سکتا ہے ۔
ترجمہ : (١٠١٨)پھر آفاقی اگر مکہ مکرمہ کے ارادے سے میقات تک آجائے تو تو اس پر احرام باندھنا ہے چاہے حج کا یا عمرے کا ارادہ کیا ہو یا نہ کیا ہو ۔
ترجمہ: ١ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ میقات کو پار نہ کرو مگر محرم ہو کر ۔
تشریح : جو آدمی میقات سے با ہر ہے اور وہ مکہ مکرمہ داخل ہو نا چاہے تووہ جب میقات سے گزرے تو حج یا عمرے کا احرام باندھ کر گزرے ، یہ اس کے عظمت کا تقاضا ہے ، کیونکہ حدیث میں ہے کہ میقات سے بغیر احرام کے نہ گزرے ۔۔میقات سے باہر والوں