Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009

¾اكستان Ù

23 - 64
پھر چار پڑھتے تھے اُن کی خوبی اور درازی مت پوچھو پھر تین پڑھتے تھے۔''
(بخاری ص١٥٤ج ١ باب قیام النبی ۖ بالیل فی رمضان  و غیرہ) 
اَور اُن سے ہی روایت ہے کہ  : 
''جناب ِ رسول اللہ  ۖ  رات کو تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے اُن میں وتر اَور فجر کی دو رکعتیں شامل ہوتی تھیں۔ '' ( البخاری ص ١٥٣ بَابُ کَیْفَ کَانَ صَلَاةُ اللَّیْلِ وَکَیْفَ کَانَ النَّبِیُّ  ۖ یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ)
اِن دو حدیثوں سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ جناب ِ رسول اللہ  ۖ  کی نماز ِ شب گیارہ رکعتیں ہوتی تھیں اَور فجر کی دو رکعتوں سمیت تیرہ ہوتی تھیں۔ 
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے ایک اَور حدیث میں روایت ہے کہ  : 
جناب ِ رسول اللہ  ۖ  رات کو تیرہ رکعتیں پڑھا کر تے تھے پھر جب اَذان سن لیتے تھے تو دو ہلکی رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔'' (بخاری ص ١٥٦  بَابُ تَعَاھُدِ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ وَمَنْ سَمَّاھَا تَطَوُّعًا)
اِس حدیث سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ جناب ِ رسول اللہ  ۖ کی رات کی نماز تیرہ رکعت ہوتی تھی اَور فجر کی دو رکعات سمیت پندرہ رکعتیں ہوجاتی تھیں۔ اِسی کا نام ' '  اضطراب '' ہے کیونکہ پہلی حدیث کی رُو سے رسول اللہ  ۖ  کی نماز تیرہ رکعت تھی اور اس حدیث کی رُو سے پندرہ رکعت ہوتی ہے۔ اَور یہ روایتیں بخاری ہی میں موجود ہیں جیسے کہ آپ کے سامنے ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی سے ایک اَور روایت میں آتا ہے اُنہوں نے فرمایا کہ  :
''جناب ِ رسول اللہ  ۖ  نے عشاء کی نماز پڑھی پھر آٹھ رکعتیں پڑھیں اَور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھیں اَور دو رکعتیں اَذان و اقامت کے درمیان پڑھیں اَور اِن دو رکعتوں کو آپ کبھی بھی نہیں چھوڑا کرتے تھے۔ ''
(بخاری ص ١٥٥ بَابُ الْمُدَاوَمَةِ عَلٰی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ) 
اِس حدیث میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو تعداد بتلائی ہے اُس سے وتر سمیت پندرہ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 ملفوظات شیخ الاسلام 12 1
4 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 12 3
5 علمی مضامین 15 1
6 بیس رکعت تراویح اَور اُس کے دلائل 15 5
7 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 27 1
8 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 27 7
9 وفیات 31 1
10 تربیت ِ اَولاد 34 1
11 زچہ (بچہ کی ماں ) کے غسل میں تاخیر اَور نماز میں کوتاہی : 34 10
12 متعین اَوقات میںزچہ کی تین مرتبہ نہلانے کی رسم 34 10
13 غسل کے وقت عورتوں کا جمع ہونا : 35 10
14 غسل کے وقت دھوم دھام اَور ناچ گانا : 35 10
15 غسل کے وقت ستر اَور پردہ پوشی کی ضرورت 35 10
16 اَچھوانی اَورسٹھورا وغیرہ تقسیم کرنے کو ضروری سمجھنا : 36 10
17 پیدائش کی خبر نائی کے ذریعہ پہنچانے کی رسم : 36 10
18 چند ضروری تنبیہات : 36 10
19 محرم الحرام کی فضیلت 37 1
20 منکراتِ مروجہ کی مذمت 37 1
21 تنبیہ : 38 19
22 قسم اوّل کے منکرات : 39 20
23 قسم دوم کے منکرات : 41 20
24 معاشرتی اِصلاح کے متعلق چند زَرّیں ہدایات 44 1
25 لڑکیوں کی پرورش کرنے او ر اُن پر خرچ کرنے کی فضیلت 44 24
26 لڑکی کی اہمیت : 44 24
27 شادی میں تاخیر نہ کیجیے : 45 24
28 سادگی کے ساتھ بِلا بارات کے شادی کی ترغیب : 46 24
29 منگنی اَور تاریخ میں دعوت کی ضرورت نہیں : 46 24
30 مسجد میں نکاح ہونے کی تحریک چلائو : 46 24
31 بیوی کے حقوق : 47 24
32 ساس بہو کے ساتھ رہنے کا مسئلہ : 48 24
33 اہلیہ کو لے کر علیحدہ رہیے اَو روالدین کی خدمت کیجیے : 49 24
34 بے پردگی کانتیجہ 50 24
35 عورت چاہے تو شوہر اَور پورے گھر کو دیندار بنادے : 50 24
36 گلدستہ ٔ اَحادیث 53 1
37 اِنسان کی تخلیق کے مدارج : 53 36
38 چار رَوز اُندلس میں 56 1
39 اَلْحَمْرَائْ '' : 56 38
40 واپس مالگا روانگی : 59 38
41 مالگا( MALAGA) : 60 38
42 دینی مسائل 61 1
43 لعان کا بیان : 61 42
44 بقیہ : معاشرتی اِصلاح کے متعلق چند زرّیں ہدایات 62 24
46 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter