Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009

اكستان

15 - 64
(  علمی مضامین   :  سلسلہ نمبر٣٥   قسط  :  ٢  ،  آخری  )
''الحامد ٹرسٹ''نزد جامعہ مدنیہ جدید رائیونڈ روڈ لاہورکی جانب سے شیخ المشائخ محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے بعض اہم خطوط اور مضامین کو سلسلہ وار شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے جو تاحال طبع نہیں ہوسکے جبکہ ان کی نوع بنوع خصوصیات اس بات کی متقاضی ہیں کہ افادۂ عام کی خاطر اِن کو شائع کردیا جائے۔ اسی سلسلہ میں بعض وہ مضامین بھی شائع کیے جائیں گے جو بعض جرا ئد و اخبارات میں مختلف مواقع پر شائع ہو چکے ہیں تاکہ ایک ہی لڑی میں تمام مضامین مرتب و یکجا محفوظ ہو جائیں۔ (اِدارہ)
صرف امام اَور منفرد ہی کاسورہ ٔفاتحہ پڑھنا اَور دُنیا بھر میں
 بیس رکعت تراویح اَور اُس کے دلائل    ١
اَب آثارِ صحابہ وتابعین ملاحظہ فرمائیں  : کچھ تو وہ روایات ہیں جو ابن ِتیمیہ رحمة اللہ علیہ نے اپنے فتاوٰی میں دی ہیں۔ انھوںنے فرمایا ہے:امام مالک رحمة اللہ علیہ نے اپنی مؤطا میں حضر ت جابر رضی اللہ عنہ  کی روایت دی ہے اُنہوں نے فرمایا کہ 
 '' جس شخص نے کوئی رکعت بغیر(سورہ فاتحہ) پڑھے اَدا کی تو اُس کی نماز نہیںہوئی سوائے اِس کے کہ وہ امام کے پیچھے نماز ادا کر رہا ہو۔'' 
حضرت عبداللہ بن عمر سے جب دریافت کیا جاتا تھا کہ امام کے پیچھے کوئی نماز پڑھ رہاہو تو کیا وہ پڑھے گا؟تووہ فرماتے تھے کہ
'' جب کوئی امام کے پیچھے پڑھتا ہو تو اُسے امام کا پڑھنا کا فی ہے اور جب اکیلا پڑھے تو اُسے پڑھنا چاہیے۔'' 
   ١  زیر نظر دُوسری قسط حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب قدس سرہ العزیز  کی غیر مطبوعہ عربی تحریربعنوان    ''رَدُّ مَا کَتَبَ اَبُوْ خَالِدٍ عَبْدُالْوَکِیْلِ الْھَاشِمِیُّ''کا مختصر ترجمہ ہے جو خود اُن ہی کا کیا ہوا ہے۔اِس میں حضرت  نے فاتحہ خلف الامام اور بیس رکعت تراویح کے اثبات کے دلائل جمع فرمائیں ہیں۔یہ ضروری وضاحت پہلی قسط میں نہیں ہو سکی اَب اِس کی تلافی کر دی گئی ہے۔(ادارہ)

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 ملفوظات شیخ الاسلام 12 1
4 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 12 3
5 علمی مضامین 15 1
6 بیس رکعت تراویح اَور اُس کے دلائل 15 5
7 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 27 1
8 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 27 7
9 وفیات 31 1
10 تربیت ِ اَولاد 34 1
11 زچہ (بچہ کی ماں ) کے غسل میں تاخیر اَور نماز میں کوتاہی : 34 10
12 متعین اَوقات میںزچہ کی تین مرتبہ نہلانے کی رسم 34 10
13 غسل کے وقت عورتوں کا جمع ہونا : 35 10
14 غسل کے وقت دھوم دھام اَور ناچ گانا : 35 10
15 غسل کے وقت ستر اَور پردہ پوشی کی ضرورت 35 10
16 اَچھوانی اَورسٹھورا وغیرہ تقسیم کرنے کو ضروری سمجھنا : 36 10
17 پیدائش کی خبر نائی کے ذریعہ پہنچانے کی رسم : 36 10
18 چند ضروری تنبیہات : 36 10
19 محرم الحرام کی فضیلت 37 1
20 منکراتِ مروجہ کی مذمت 37 1
21 تنبیہ : 38 19
22 قسم اوّل کے منکرات : 39 20
23 قسم دوم کے منکرات : 41 20
24 معاشرتی اِصلاح کے متعلق چند زَرّیں ہدایات 44 1
25 لڑکیوں کی پرورش کرنے او ر اُن پر خرچ کرنے کی فضیلت 44 24
26 لڑکی کی اہمیت : 44 24
27 شادی میں تاخیر نہ کیجیے : 45 24
28 سادگی کے ساتھ بِلا بارات کے شادی کی ترغیب : 46 24
29 منگنی اَور تاریخ میں دعوت کی ضرورت نہیں : 46 24
30 مسجد میں نکاح ہونے کی تحریک چلائو : 46 24
31 بیوی کے حقوق : 47 24
32 ساس بہو کے ساتھ رہنے کا مسئلہ : 48 24
33 اہلیہ کو لے کر علیحدہ رہیے اَو روالدین کی خدمت کیجیے : 49 24
34 بے پردگی کانتیجہ 50 24
35 عورت چاہے تو شوہر اَور پورے گھر کو دیندار بنادے : 50 24
36 گلدستہ ٔ اَحادیث 53 1
37 اِنسان کی تخلیق کے مدارج : 53 36
38 چار رَوز اُندلس میں 56 1
39 اَلْحَمْرَائْ '' : 56 38
40 واپس مالگا روانگی : 59 38
41 مالگا( MALAGA) : 60 38
42 دینی مسائل 61 1
43 لعان کا بیان : 61 42
44 بقیہ : معاشرتی اِصلاح کے متعلق چند زرّیں ہدایات 62 24
46 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter