ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009 |
اكستان |
|
کہ حکومت عوام کی سہولت کے لیے پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر ایک پہاڑ سے دُوسرے پہاڑ تک پل تعمیر کر رہی ہے راستوں کو آسان اور سہل بنایا جا رہا ہے۔ جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے ڈیم بنتے بھی نظر آئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ نئے ڈیموں کی تعمیر ہر ملک کی ضرورت ہے۔ مالگا( MALAGA) : مالگا اُندلس کا مشہور اور قدیم شہر ہے جس کی تاریخ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عہد تک ملتی ہے مسلمانوں کے دورِ حکومت میں بھی یہ اُندلس کی ایک اہم بندر گاہ اور تجارتی منڈی تھی۔ یہاں کی پیداوار میں انجیر اور انگور پورے اُندلس میں مشہور تھے۔ مٹی کے برتنوں کی صنعت یہاں کی مشہور صنعت سمجھی جاتی تھی اور آج بھی یہاں کے برتن سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہیں۔ مسلمانوں کے دورِ حکومت میں غرناطہ اور قرطبہ کے مقابلے میں یہ شہر چھوٹا تھا اور اِس کی اہمیت وہ نہ تھی جو طرقبہ اور غرناطہ کو حاصل تھی مگر آج یہ شہر آبادی اور اور دُوسرے کئی حوالوں سے اُن شہروں سے آگے ہے۔ بین الاقوامی ہوائی اَڈے اور ساحلِ سمندر کی وجہ سے یہ شہر غیر ملکی سیاحوں کی پسندیدہ جگہ ہے یہاں کا ساحل سمندر بھی خوبصورت مانا جاتا ہے سمندر کی وجہ سے اِس شہر کا موسم بھی بڑا متوازن ہے۔ حکومت اسپین نے بھی اس کی تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دی ہے اور اِس کو ایک خوبصورت شہر میں تبدیل کر دیا ہے رات کے وقت اس شہر میں میلے کا سماں ہوتا ہے رنگا رنگ برقی قمقموں اور خوبصورت فواروں نے ا ِس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ رات ایک بجے برمنگھم کے لیے ہماری فلائٹ تھی ہم ائیر پورٹ پہنچے عشاء کی نماز ادا کی اور اُندلس چھوڑنے کے لیے جہاز کی سیڑھیوں کی طرف چل پڑے ہم اپنے پیچھے بے شمار سوالات اور یادیں چھوڑ کر جا رہے تھے اِس کے باوجود کہ یہ ملک اَب مسلمانوں کے پاس نہیں مگر ہم اچھا تاثر لے کر وہاں سے نکلے۔ ہمیں چار رَوز میں کہیں اجنبیت کا احساس نہیںہوا۔