ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009 |
¾اكستان Ù |
|
یہی روایت مصنف ابن ِابی شیبہ میں بھی ہے کہ : '' حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ہدایت فرمائی کہ'' اِمام کے پیچھے نہ پڑھا کرو '' حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اِرشاد فرمایا : فطرت(یا دین ِاِسلام) میں یہ بات نہیں ہے کہ اِمام کے ساتھ پڑھے۔ محمد بن عجلان مرسلاً نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ''جو اِمام کے ساتھ پڑھے وہ فطرت پر نہیں ہے''۔ اُنہوں نے کہا کہ حضرت ابن ِمسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ''اُس کے منہ میں مٹی بھردی جائے۔'' اَورحضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ''جو قراء ة خلف الامام کرتا ہے اُس کے منہ میں پتھر ہو'' ۔ یہ اَثر مرسل جید الاسناد ہے۔ یہ اِس قسم کی باتیں ہیں جیسے کہ ابن تیمیہ سے ہم نے نقل کیا کہ ''یہ سفاہت کی بات ہے شریعت اِس سے منزہ ہے۔'' یہ اَحادیث ِصحیحہ مرفوعہ اَور روایات حنفی حضرات کی دلیلیں ہیں یہ حجت ِبالغہ اَور غالب و واضح دلیلیں ہیں۔ اِسی وجہ سے حنفی حضرات نے مقتدی کو اِمام کے پیچھے سورہ ٔ فاتحہ پڑھنے سے منع کیا ہے اَور اِسے مکروہ قرار دیا ہے۔ اَور اِن دلائل کو باطل کرنا قیامت تک ممکن نہیں ۔ ٭ دُوسرا مسئلہ ابو خالد صاحب نے پھر یہ فتوی لکھا ہے کہ تروایح آٹھ رکعات ہوتی ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے جوبخاری میں آئی ہے اُنہوں نے اِستدلال کیا ہے ۔ابو خالد صاحب کو شاید یہ معلوم نہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں اِضطراب ہے (کہیں کچھ منقول ہے اَور کہیں کچھ) اِمام بخاری نے ایک حدیث میں اُن سے یہ نقل کیا ہے کہ : ''جناب ِ رسول اللہ ۖ نہ رمضان میں نہ غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے، چار رکعات پڑھتے تھے اُن کی خوبصورتی اَور درا ز ی مت پوچھو۔