ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009 |
¾اكستان Ù |
|
ابنِ ذَکوان حضرت زید بن ثابت اَور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ''یہ دونوں حضرات قراء ت خلف الامام نہیں کیا کرتے تھے '' ۔ یہ روایت صحیح السند ہے۔ حضرت عبید اللہ بن مقسم نے فرمایا میں نے حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا۔ '' کیا اِمام کے پیچھے آپ ظہر اَور عصر کی نمازوں میں کچھ پڑھتے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا ''نہیں''۔ یہ سند صحیح ہے۔ اِس سند سے اِمام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں ٣٧٥ پر روایت دی ہے ۔ اَنس بن سیرین فرماتے ہیں ''میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: '' کیا میں امام کے ساتھ پڑھوں اُنہوں نے فرمایا : تم بڑے موٹے پیٹ کے ہو۔بس اِمام کا پڑھنا ہوتا ہے''۔ یہ روایت صحیح السند ہے۔ بیہقی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: '' تمہارے لیے اِمام کا پڑھنا کا فی ہے'' کتاب القراء ة ص ١٢٥۔ اَور جیسا کہ فتاوی ابن تیمیہ سے منقول عبارت میں گزرا۔ حضرت علقمہ بن قیس نے فرمایا : ''میرا دِل چاہتا ہے کہ جو آدمی قراء ة خلف الامام کرتا ہو اُس کے منہ میں بھردی جائے ۔ میرا خیال ہے اُنہوں نے فرمایا کہ مٹی یا گرم پتھریاں ''۔ اِس روایت کے سب راوی صحیح بخاری کے ہیں۔ آپ غور فرمائیں تو حضرت سعد کی روایت اَور حضرت اَسود اور علقمہ کی روایات یہ بتلارہی ہیں کہ صحابۂ کرام قراء ة خلف الامام نہیں کیا کرتے تھے اَور اِس جیسی بات ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ کے فتاوی میں گزری ہے جو زُہری رحمة اللہ علیہ سے روایت نقل کر کے اُنہوں نے بیان کی تھی ۔ عبد اللہ ابن ابی لیلیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ وہ اِرشاد فرما تے تھے: ''جو قراء ة خلف الامام کرتا ہے وہ فطری اَمر (یا اِسلامی حکم) میں غلطی کر رہا ہے '' (فطرت اِسلام کے معنی میں بھی آتا ہے)