ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009 |
¾اكستان Ù |
|
ابراہیم نخعی رحمة اللہ علیہ امام کے پیچھے پڑھنا مکروہ بتلاتے اورفرماتے تھے کہ : '' تمہارے لیے امام کا پڑھنا کافی ہے '' میں عرض کرتا ہو ں کہ یہ روایت صحیح الاسنادہے ولید بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سوید بن غفلہ ١ سے دریافت کیا :کیا میں امام کے پیچھے ظہر اور عصر میں پڑھا کروں ،فرمایا : ''نہیں '' حافظ نیموی نے فرمایایہ صحیح السند ہے۔ اِس قسم کی روایات عبد الرزاق نے بھی لکھی ہیں جو ایک بلند پایہ محدث ہیں اُن کی جلالت ِقدر پر سب کا اتفاق ہے۔ اُنہیں ذہبی رحمة اللہ علیہ نے'' خزانۂ علم'' کہا ہے۔ اُن کے بحر موّاج سے بڑے بڑے ائمہ حدیث سیراب ہوئے ہیں اَور فقہائے اُمت کی ایک جماعت جیسے احمد بن حنبل اَور اسحاق بن راہویہ وہ بلند مرتبہ ثقات میں ہیں۔اِمام بخاری اِمام مسلم اَور سب اصحاب ِ اصول نے اِن سے روایات لی ہیں۔ وہ اپنی کتاب ''مُصَنَّفْ عبد الرزاق '' میں فرماتے ہیں ابواسحاق نے فرمایا کہ '' حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد اِمام کے پیچھے نہیں پڑھا کرتے تھے۔'' اَور زید بن اسلم نے فرمایا کہ '' حضرت عبد اللہ عمر امام کے پیچھے پڑھنے سے منع فرمایاکرتے تھے۔'' اِن دونوں روایتوں کی سندیں اِمام بخاری کی صحیح بخاری کی سندیں ہیں۔ ١ حضرت سوید بن غفلة نخعی کوفی جو معمر گزرے ہیںعام فیل میں یا اُس سے دو سال بعد پیدا ہوئے مسلمان ہوئے تو بوڑھے ہو چکے تھے مدینہ منورہ کا سفر اختیار کیا تو اُس وقت پہنچے کہ جب صحابۂ کرام جناب رسول اللہ ۖ کی تدفین سے فارغ ہو چکے تھے یرموک کے معرکہ میں شریک ہوئے اِنہوں نے حضرت ابوبکر حضرت عمر حضرت علی حضرت اُبی رضی اللہ عنہم سے اور بہت سے صحابۂ کرام سے حدیثیں روایت فرمائی ہیں اور اِن سے حضرت ابراہیم نخغی سلمة بن کُھیل، عبدة ابن ابی لبابة اور دیگر حضرات نے روایات اَخذ کی ہیں وہ ثقہ تھے ،نبیل عابد زاہد اور صاحب قناعت تھے بہت تھوڑے پر قناعت فرماتے تھے بڑے عالی مقام بزرگ تھے اِن کی کنیت ابو اُمیہ ہے ۔اِن کی وفات ٨١ھ میںہوئی (تذکرةالحفاظ ص٥٣ ج١)ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ٨٠ھ میں وفات پائی اُس وقت اِن کی عمرایک سو تیس سال تھی (تقریب التہذیب ص ١٤١ )