ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009 |
¾اكستان Ù |
|
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا : '' امام کے پیچھے نہ پڑھے چاہے وہ آواز سے پڑھ رہا ہو یا آہستہ بِلا آواز۔ '' یہ روایت صحیح السند ہے ۔ دُوسری حدیث میں فرمایا : '' جو امام کے پیچھے پڑھے اُس کی نماز نہیں ہوئی۔ '' یہ روایت صحیح السند ہے ۔ اور امام مسلم نے عطار بن یسار سے روایت فرمائی ہے کہ اُنہوںنے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ نماز میں قراء ت کا مسئلہ دریافت کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ '' امام کے ساتھ کسی بھی نماز میں پڑھنا نہیں ہوتا۔ '' حضرت اسود نے فرمایا : '' میرا دل چاہتا ہے کہ جو امام کے پیچھے پڑھے اُس کے منہ میں مٹی بھر دی جائے ۔'' حافظ نیموی رحمة اللہ علیہ نے آثار السنن میں فرمایا ہے کہ اِس کی سند صحیح ہے۔ اِس روایت کی دُوسری سند وہ ہے جو عربی متن میں ہے اور تیسری سند یہ ہے عبد الرزاق عن الثوری عن الاعمش عن ابراھیم عن الاسود( مصنف عبدالرزاق ص ١٣٨ ، ج ٢)یہ دونوں سندیں بخاری شریف کی ہیں۔ ابو بشر نے حضرت سعید بن جبیر سے قراء ت خلف الامام کا مسئلہ پوچھا ،فرمایا : ''امام کے پیچھے پڑھنا نہیں ہوتا۔ '' آثار السنن میں حافظ نیموی نے فرمایا کہ اِس روایت کے راوی صحیحین کے رجال ہیں ۔ میں عرض کرتاہوں کہ امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں اِس سند سے روایت دی ہے ۔(ص٢٤٩) حضرت سعید بن المسیب نے فرمایا : '' امام کے لیے توجہ کے ساتھ خاموش رہو۔'' حافظ نیموی نے آثار السنن میں فرمایا ہے کہ یہ صحیح السند ہے ۔ امام محمد بن سیرین نے فرمایا : '' میں نہیں جانتا کہ امام کے پیچھے پڑھنا سنت ہو۔'' حافظ نیموی نے اِسے صحیح السند فرمایا ہے